بھارتی فوج کالڑاکاطیارہ جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں بھارتی فضائیہ کے دو تجربہ کار پائلٹس نے میراج 2000 لڑاکا طیارے پر معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں کے کھیت میں گر گیا اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ میراج 2000 جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا جس جگہ طیارہ گرا وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طیارے میں دو تجربہ کار پائلٹس موجود تھے جو طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں پائلٹس نے پیراشوٹس کی مدد سے چھلانگ لگائی تاہم ناہموار زمین پرگرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے۔
بھارتی فضائیہ کے بیان میں کہا گیا کہ زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تباہ ہونے والا لڑاکا طیارہ میراج 2000 تھا جو بالا کوٹ کے 2019 سمیت کئی اہم آپریشن میں استعمال ہوا تھا۔
خیال رہے کہ فروری 2019 میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا اس کے لڑاکا طیارے نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں ایک مدرسے پر بمباری کی ہے۔
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں مدرسے میں موجود ایک ٹریننگ سینٹر کو تباہ کردیا گیا تھا تاہم بھارت اپنے اس دعوے کے ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا اور عالمی تحقیقاتی اداروں نے بھی اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان