گوگل سرچ انجن کی بالادستی کیلئے حقیقی خطرہ بننے والے سرچ انجن تک رسائی آسان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
چیٹ جی پی ٹی کا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے لیس سرچ انجن اب تمام صارفین کو دستیاب ہے۔یہاں تک کہ وہ صارفین بھی اسے استعمال کرسکتے ہیں جن کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ نہیں بنا ہوا۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2024 میں چیٹ جی پی ٹی کا سرچ انجن متعارف کرایا گیا تھا تاکہ گوگل کو اس شعبے میں سخت ٹکر دی جاسکے۔مگر اس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ سرچ انجن چیٹ جی پی ٹی کے ماہانہ فیس ادا کرنے والے صارفین کو دستیاب ہوگا اور وہ رئیل ٹائم تفصیلات حاصل کرسکیں گے۔دسمبر 2024 میں اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
مگر اس وقت کمپنی نے سرچ انجن کو استعمال کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر اکاؤنٹ بنانے کی شرط عائد کی تھی۔کمپنی کی جانب سے اب ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی کا سرچ انجن تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسے استعمال کرنے کے لیے سائن اپ یا لاگ ان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس سرچ انجن کو چیٹ جی پی ٹی کے ویب ورژن کا حصہ بنایا گیا ہے۔اسے استعمال کرنے کے لیے صارفین کو ویب سائٹ پر سرچ بٹن پر کلک کرنا ہوگا، جس کے بعد اے آئی چیٹ بوٹ کی جانب سے روایتی گفتگو کے انداز میں آپ کے سوالات کا جواب دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے انٹرنیٹ پر موجود متعلقہ تفصیلات جیسے تصاویر اور ویب لنکس بھی فراہم کیے جائیں گے۔ان لنکس کو سرچ انجن کے انداز میں پیش کیا جائے گا۔
جب اس سرچ انجن کو متعارف کرایا گیا تھا تو کمپنی نے بتایا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی میں ویب سرچ کا اضافہ اس اے آئی چیٹ بوٹ کو مائیکرو سافٹ کو پائلٹ اور گوگل جیمنائی جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا جن کو رئیل ٹائم انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگرچہ اب بھی سرچ انجن کے شعبے میں گوگل کو واضح بالادستی حاصل ہے مگر چیٹ جی پی ٹی پر سرچ ٹریفک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اب جب چیٹ جی پی ٹی سرچ کو تمام صارفین استعمال کرسکیں گے تو ممکنہ طور پر ٹریفک میں بھی اضافہ ہوگا اور گوگل کو حقیقی سخت چیلنج کا سامنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی تمام صارفین گیا تھا اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔