Jasarat News:
2026-07-24@13:25:50 GMT

اے آئی کی مذہبی معاملات میں مدد؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

اے آئی کی مذہبی معاملات میں مدد؟

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے نیشنل پریئر بریک فاسٹ (قومی دعائیہ ناشتہ) میں دنیا بھر کے مذہبی رہنما، دانشور، اور حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔ اس باوقار اجتماع میں بادشاہی مسجد لاہور کے امام، مفتی سید عبد الخبیر آزاد بھی مدعو تھے، مولانا عبد الخبیر آزاد 22 سال سے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے امام ہیں۔ ان کے والد مولانا عبدالقادر آزاد بھی بادشاہی مسجد کے امام رہے۔ آزاد خاندان گزشتہ 50 سال سے بادشاہی مسجد کی امامت سے منسلک ہے۔ مولانا خبیر آزاد نے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کیا ہے جبکہ گزشتہ 15 برسوں سے وہ رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے رکن بھی ہیں اور اب انہیں کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، واشنگٹن کی اس سرکاری روایتی تقریب میں اتفاق سے میں بھی مدعو تھا جہاں مفتی آزاد سے میری ملاقات ہوئی، ہمارا موضوع بحث آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) کا مذہبی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے کردار تھا۔ اس موقع پرانہوں نے پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا تجربہ کیا۔ میں نے مفتی سید عبد الخبیر آزاد کو میٹا اے آئی رے بین (Meta AI Ray-Ban) چشمے اور چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کے استعمال کا موقع فراہم کیا، جس سے وہ خاصے متاثر ہوئے۔

مفتی صاحب نے AI اسمارٹ چشموں کے ذریعے تصاویر لینے، ویڈیوز بنانے، اور AI سے چلنے والی دیگر خصوصیات کے استعمال کا تجربہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے فون میں چیٹ جی ٹی پی انسٹال کیا اور اس کے ذریعے سوالات کے جوابات حاصل کرنے، خطبات کی تیاری، اور دینی رہنمائی کے لیے اس کے ممکنہ استعمال کو سمجھا۔

مفتی عبد الخبیر آزاد نے مساجد میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات پر گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس بات کو تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت علما اور آئمہ کرام کے لیے ایک جدید اور مددگار ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہزاروں آئمہ کو AI اور ڈیجیٹل ٹولز کی تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے خطبات، درس و تدریس، اور عوامی رہنمائی کے عمل کو مزید مؤثر بنا سکیں۔ میں نے انہیں اس حوالے سے پاکستان میں ایک جامع AI ٹریننگ پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی، جسے مفتی صاحب نے خوش دلی سے قبول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر علما اور دینی رہنما AI جیسے جدید ٹولز کا صحیح استعمال سیکھ لیں، تو یہ دین کی اشاعت، عوامی مسائل کے حل، اور نئی نسل سے مؤثر انداز میں جْڑنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نیشنل پریئر بریک فاسٹ جہاں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے مابین عالمی مکالمے کا اہم موقع ہوتا ہے، وہیں یہ تقریب دین اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج پر غور و فکر کا بھی ایک نیا موڑ ثابت ہوئی۔ مفتی سید عبد الخبیر آزاد کی دلچسپی اور کھلے ذہن کا مظاہرہ اس بات کی علامت ہے کہ مذہب اور ٹیکنالوجی ایک ساتھ چل سکتے ہیں، اور جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے علما کو بھی ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونا ہوگا۔ یہ ملاقات محض ایک آغاز تھی۔ اگلا قدم پاکستان کے آئمہ کرام کو AI سے روشناس کرانا اور انہیں ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل کی قیادت کر سکیں۔ دین اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا سفر شروع ہو چکا ہے، اور وہی علما آنے والے وقت میں نمایاں ہوں گے جو اس تبدیلی کو قبول کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عبد الخبیر ا زاد بادشاہی مسجد

پڑھیں:

خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔

 پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم