آغا حسن کی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے قتل کے دونوں واقعات کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کٹھوعہ اور بارہمولہ اضلاع میں شہری مکھن دین اور ٹرک ڈرائیور وسیم میر کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق آغا حسن نے بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قتل کے دونوں واقعات کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ دریں اثنا کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے رہنما اور اسمبلی رکن محمد یوسف تاریگامی نے بھی بارہمولہ ضلع میں ایک ٹرک ڈرائیور کے حالیہ قتل کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا کرتے ہوئے کہ مجرموں کی شناخت سے ہی انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاری پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس طرح کی کارروائیوں سے حالات مزید سنگین شکل اختیار کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کو کسی بھی کارروائی کیلئے جوابدہ ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔