سہ ملکی سیریز؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف فیلڈنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے میزبان پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا۔
قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، انکا کہنا تھا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے، کوشش ہوگی میچ میں فتح کیساتھ شروعات کریں۔
اس موقع پر قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان کا کہنا تھا ہم بھی ٹاس جیت کر بیٹنگ ہی کرتے تاہم کوشش ہوگی حریف ٹیم کی جلد وکٹیں لیکر پریشر بڑھائیں۔
پاکستان کا اسکواڈ: کپتان محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم،کامران غلام، سلمان علی آغا، طیب طاہر، خوشدل شاہ، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف اور ابراراحمد شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔