Jasarat News:
2026-07-24@15:11:11 GMT

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا یوم سیاہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا یوم سیاہ

8 فروری 2025 کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ 8 فرور ی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے بھی اسی تاریخ کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔ تیسری طرف اسماعیلی فرقے کے لوگوں نے پرنس عبدالکریم آغا خان کی وفات پر 8 فروری کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے ملک گیر احتجاج کیا۔ کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

پاکستان جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہے اس میں ایک مسئلہ ملک میں آزادانہ، دیانتدارانہ اور منصفانہ انتخاب کا بھی ہے۔ ترجیحات کا تعین کیا جائے تو میرے نزدیک سب سے اوّل مسئلہ ایک صاف ستھرے، شفاف انتخابات کے انعقاد کا ہے جو ملک میں اب تک نہ ہوسکا۔ جب ہم شفاف انتخابات کی بات کرتے ہیں تو اس کا آغاز ملک کی مردم شماری سے ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہر دس سال بعد مردم شماری ہوتی ہے اس مدت کی پابندی بہت کم ہوتی ہے اور جب بھی مردم شماری ہوئی اس پر بعد میں بہت سارے سوالات اُٹھ جاتے ہیں۔ مہینوں پر مشتمل مشقت سے لبریز پورے ملک میں یہ کام ہوتا ہے جس میں کروڑوں روپے کے اخراجات کے علاوہ بے پناہ افرادی وسائل بھی کام میں آتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں ہمارے ملک کے طاقتور لوگ بالخصوص جاگیرادار طبقہ مردم شماری کے کام میں اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرکے اس کی شفافیت کو داغدار کردیتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال کراچی ہے جس کی پچھلی مردم شماری میں ڈیڑھ کروڑ کی آبادی دکھائی گئی ہے جبکہ اس وقت تمام ہی اصحاب الرائے لوگوں کا خیال تھا کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کی مردم شماری میں اپنے سرکاری و سیاسی دبائو کو استعمال میں لا کر عملے کو قابو کرلیتی ہے اور ان کے ذریعے سے فراڈ پر مبنی مردم شماری کرائی گئی جس میں انتہائی چالاکی سے اندرون سندھ کے دیہی علاقوں کی آبادی کو جعلی طریقہ اختیار کرکے بہت زیادہ دکھایا جاتا ہے جبکہ کراچی اور حیدرآباد شہر کی آبادی کو جان بوجھ کر کم دکھایا گیا۔ اسی مردم شماری کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بنائی جاتی ہیں لہٰذا پیپلز پارٹی جو پچھلے پندرہ بیس سال سے صوبے میں برسر اقتدار ہے وہ اپنے سرکاری اثر رسوخ سے اپنی مرضی کی مردم شماری کروا کے شہروں کی قومی و صوبائی کی نشستیں کم اور دیہی علاقوں کی قومی اور صوبائی کی نشستیں بڑھوا لیتی ہے۔ جس کا اسے سیاسی فائدہ ہوتا ہے۔

شفاف الیکشن کی دوسری شرط انتخابی فہرستوں کا صاف و شفاف ہونا ہے۔ بدقسمتی سے اس میں بھی کراچی والوں کے ساتھ بڑی زیادتی اور نا انصافی ہوتی ہے۔ پچھلے دس پندرہ برسوں میں کم و بیش ایک کروڑ سے زائد لوگ اندرون سندھ سمیت ملک کے دیگر تینوں صوبوں سے کراچی منتقل ہوئے ہیں۔ روزگار اور کار وبار کے حوالے سے شہروں کی طرف آنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے لیکن شکایت اس وقت ہوتی ہے جب انتخابی فہرستوں میں ایسے لوگ اپنے دیہات والے گھر کے پتا لکھواکر وہاں ووٹ ڈالتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ جو لوگ کراچی شہر میں روزگار یا ملازمت کررہے ہیں اور وہ یہاں کا انفرا اسٹرکچر بھی استعمال کررہے ہیں ان کا اندراج اسی شہر میں ہونا چاہیے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے اس بڑی شکایت کے علاوہ انتخابی فہرستوں کی تشکیل میں اور بھی شکایات و اعتراضات ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ان تمام شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے ہماری تجویز ہے کہ نادرا کے ریکارڈ کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی تشکیل ہونا چاہیے۔ شفاف انتخاب کی تیسری شرط قومی اور صوبائی اسمبلی کی منصفانہ تشکیل ہے کراچی ہی میں دیہی علاقوں کی قومی اور صوبائی اسمبلی نشستوں میں ووٹروں کی تعداد شہری علاقوں کی نشستوں کے ووٹروں سے بہت کم ہوتی ہے۔ پچھلے بلدیاتی انتخاب میں پی پی پی نے یہی تو کیا ہے کہ کراچی کے دیہی علاقوں کی یوسیز پندرہ سے بیس ہزار ووٹروں پر مشتمل ہے جبکہ شہر ی علاقوں کی یوسیز میں پچاس سے ستر ہزار ووٹرز ہیں۔ اسی ضمن میں یہ بھی بتاتے چلیں کہ وسائل کی تقسیم میں پی پی پی کی صوبائی حکومت بددیانتی اور کراچی کے ساتھ ناانصافی سے کام لے رہی ہے جہاں پی پی پی کے یوسی چیئرمین ہیں وہاں ترقیاتی کاموں کے لیے ایک کروڑ ماہانہ دے جارہے ہیں اور جہاں جماعت اسلامی کے یوسی چیئرمین ہیں وہاں بارہ لاکھ روپے ماہانہ دیے جارہے ہیں۔ شفاف انتخاب کی چوتھی شرط امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال آئین کی شقیں 62 اور 63 کی روشنی میں کی جائے تاکہ پہلے ہی مرحلے میں مشکوک کردار کے لوگ انتخابی عمل سے علٰیحدہ ہوجائیں۔ شفاف انتخاب کی پانچویں شرط پرامن اور آزادانہ ماحول میں ہر امیدوار کو انتخابی مہم چلانے کے مواقع فراہم کے جائیں۔ اور اس حوالے انتظامیہ کو بالکل غیر جانبدار رہنا چاہیے بدقسمتی سے پچھلے تیس برسوں میںکراچی میں ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کی وجہ سے دیگر جماعتوں کو اپنی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا انتظامیہ بھی اسی تنظیم کا ساتھ دیتی تھی۔ شفاف انتخاب کی چھٹی شرط انتخاب والے دن پولنگ اسٹیشنوں میں ایسا پرامن ماحول قائم کیا جائے کہ ووٹرز اپنی مرضی سے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ ڈال سکیں، کسی پارٹی کو یا کسی غنڈہ گروپوں کو پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کرکے جعلی ووٹ بھگتانے کا موقع نہیں دیا جائے۔ اسی لیے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ فوج کی نگرانی میں ووٹنگ ہونا چاہیے، یعنی پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج ہو تاکہ کسی شرپسند کو گڑبڑ کرنے کا موقع نہ مل پائے۔ شفاف الیکشن کی ساتویں شرط یہ جس پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ مکمل ہوجائے تو اس کی ایک ایک کاپی امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو دی جائے جس پر پریزائڈنگ آفیسر کے دستخط لاذمی ہو۔ اسی رزلٹ کو متعلقہ آر او اوپر بھیجے اور ساتھ ہی میڈیا کو بھی اسی رزلٹ کی کاپی دی جائے۔

یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلا کا آغاز ہوتا ہے کسی ادارے کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس دن ریٹرننگ آفیسر کو بے دست و پا کرکے خود اپنے مرتب کردہ نتائج کا اعلان کرائے۔ پچھلے سال 8 فروری کے انتخابات میں یہی تو ہوا کہ ریٹرننگ آفیسروں کو فارم 45 والے نتیجے کا اعلان نہیں کرنے دیا اور جو نتیجہ کہیں اور سے ان کے پاس آیا اسی نتیجے کا گن پوانٹ پر اعلان کیا گیا۔ اگر خدا نہ خواستہ اسی طرح انتخابات میں عوامی جذبات کو کچلا جاتا رہا تو اس کے بڑے خوفناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ کراچی میں ووٹروں نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو ووٹ دیے قومی و صوبائی کی نشستیں اس ایم کیو ایم کو دے دی گئیں جسے کراچی کے عوام پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔

پاکستان میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان کوئی بھی الیکشن شفاف الیکشن نہیں تھا 1970کے انتخاب کو غیر جاندارانہ کہتے ہیں لیکن وہ بھی نہیں تھا مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے جو کچھ کیا وہ پوری دنیا جانتی ہے یہ ٹھیک ہے کہ عوامی لیگ کو وہاں کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی لیکن اس نے اپنی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے ذریعے مخالف سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم ہی چلانے نہیں دی۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلیں وہ ٹھیک تھا تو پھر اس میں کامیاب ہونے والی پارٹی کو اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انتخابی فہرستوں قومی اور صوبائی شفاف انتخاب کی جماعت اسلامی کی نشستیں اعلان کیا کی ا بادی کا اعلان کہ کراچی ملک میں ہوتا ہے ہوتی ہے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی