امن و امان کی بہتری کیلیے پشاور کے تاجروں اور شہریوں کا خیبرپختونخوا حکومت سے اہم مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید بشارت حسین نے محلہ دھونا پتی میں ہونے والے تزہین و آرائش کے کام کی تفصیلات سے ممبر قومی اسمبلی فیصل امین گنڈا پور کو آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کے تاجروں اور شہریوں نے حکومت سے اندرون شہر سیف سٹی پروجیکٹ منصوبے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے بھائی ممبر قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور نے جھنڈا بازار محلہ دھونا پتی کا دورہ کیا۔ تنظیم تاجران خیبر پختونخوا ترجمان شہزاد احمد صدیقی، کریمپورہ بازار صدر خرم شہزاد، چوک شادی پیر بازار صدر حاجی اسرار خان، دیگر عہدیداران، پاکستان تحریک انصاف ورکرز، اہلیان علاقہ، ہندو کمیونٹی کے زمہ داران نے استقبال کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید بشارت حسین نے محلہ دھونا پتی میں ہونے والے تزہین و آرائش کے کام کی تفصیلات سے ممبر قومی اسمبلی فیصل امین گنڈا پور کو آگاہ کیا۔
فیصل امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور صوبے کا کیپیٹل ہے اور صوبائی حکومت اندرون شہر دیگر گلیوں اور پورے پشاور میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کے لئے سنجیدہ ہے۔ علاقہ عمائدین نے فیصل امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت اندرون شہر کے لئے فوری اقدامات کئے جائے تاکہ شہر کو امن و امان کے حوالے سے مزید محفوظ بنانے میں مدد مل سکے اور اس شہر کو خوبصورتی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ تاجر برادری نے سیف سٹی پروجیکٹ کیلیے صوبائی حکومت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل امین گنڈا پور
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔