جدید دور میں سکیورٹی چیلنجز میں ہائبرڈ وارفیئر، سائبر خطرات اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی شامل ہیں،قائمقام صدر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
جدید دور میں سکیورٹی چیلنجز میں ہائبرڈ وارفیئر، سائبر خطرات اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی شامل ہیں،قائمقام صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پرعزم رہا ہے،اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی خدمات عالمی امن کے عزم کا ثبوت ہیں،
کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے زیر تربیت ملکی و غیر ملکی افسران سے ایوان صدر میں خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے پرعزم رہا ہے،اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی خدمات عالمی امن کے عزم کا ثبوت ہیں،پیشہ ورانہ افسران سے مل کر فخر محسوس کر رہا ہوں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ برطانیہ، چین، ترکی، سعودی عرب سمیت متعدد دوست ممالک کے افسران کی موجودگی عالمی تعاون کی علامت ہے،کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ قیادت کی درسگاہ اور اسٹریٹجک ذہنوں کا مرکز ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جدید دور میں سیکیورٹی چیلنجز میں ہائبرڈ وارفیئر، سائبر خطرات اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی شامل ہیں۔
قائم مقام صدرنے کہا کہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے جدت،موافقت اور دور اندیشی کو اختیار کریں،پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور مسلح افواج کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی اور عوام کا اعتماد پاکستان کی اصل طاقت ہے،بین الاقوامی افسران کی موجودگی مختلف اقوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔قیادت کے بنیادی اصول دیانتداری، ہمت اور خدمت کو ہمیشہ برقرار رکھیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بین الاقوامی فوجی تعاون کے فروغ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا کردار اہم ہے۔پاکستان اپنے افسران کی خدمات پر فخر کرتا ہے، عالمی برادری سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمارک زکربرگ دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے پیکاقانون کیخلاف صحافیوں کا کل سے ملک بھر میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان حکومت کا شدید مخالفت کے بعد پیکا ایکٹ میں ممکنہ ترمیم کا عندیہ لیبیا میں پاکستانی شہریوں کو لیجانے والی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہو گئی انسداد دہشتگردی عدالت سے عمر ایوب اور زرتاج گل کی ضمانتوں میں توسیع مودی کا 3 روزہ دورہ پیرس، پاکستانی فضائی حدود میں سفر نئے ججز کی تعیناتی: چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن