دو ججز کا بائیکاٹ، کاروائی جاری رکھنے بارے ووٹنگ،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیا ہوا؟ اندرونی کہانی سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز )چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججوں کے تقرر پر غور کیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دے دی۔

ذرائع نے بتایاکہ اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم پر فیصلے تک اجلاس موخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس اعتراض پر ووٹنگ ہوئی اور اکثریت سے فیصلہ ہوا کہ اجلاس جاری رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کی کارروائی نہ روکنے پر اجلاس کابائیکاٹ کیا جب کہ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر بھی اجلاس کا بائیکاٹ کرگئے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں اپنے خط کا حوالہ دیا، جسٹس منیب اختر نے جسٹس منصور علی شاہ کے موقف کی تائیدکی۔ذرائع کا کہنا ہیکہ بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سینیارٹی طے ہونے تک اجلاس موخر کرنے کا موقف اپنایا، بیرسٹر گوہر علی نے سینیٹر علی ظفر کے موقف کی تائید کی۔

ذرائع کے مطابق جسٹس جمال مندوخیل نے سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر کو اجلاس چھوڑ کر جانے سے روکا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ آزاد ارکان ہیں بیٹھے رہیں، تاہم دونوں ممبران جسٹس جمال کے کہنے کے باوجود اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 ممبران کے بائیکاٹ کے بعد جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری رکھنے یا موخر کرنے پر ووٹنگ کرائی گئی، جوڈیشل کمیشن کے 4 ممبران نے اجلاس موخر کرنیکی رائے دی، اجلاس موخر کرنے کی رائے جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر نے دی، اجلاس موخر کرنیکی رائے دینے والوں میں بیرسٹر گوہر اور علی ظفر بھی شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن نے اکثریت سے فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر شی جن پنگ نے مئی میں روس کے یوم فتح میں شرکت کی دعوت قبول کر لی چینی صدر شی جن پنگ نے مئی میں روس کے یوم فتح میں شرکت کی دعوت قبول کر لی آپریشن ڈیول ہنٹ: بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے وفاداروں کیخلاف کارروائی شروع کردی، 1300 سے زائد گرفتاریاں مقدمات میں بدنیتی سے بغیر کسی قانونی جواز کے ملوث کیا گیا، بشری بی بی کا تحریری بیان نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت دینے کے معاملے پرپی ٹی آئی کا ایوان میں احتجاج سہ ملکی سیریز: نیوزی لینڈ جنوبی افریقا کو 6 وکٹ سے شکست دیکر فائنل میں پہنچ گیا آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں کو کنٹرول کیا جارہا ہے ،صدر ،وزیر اعظم سمیت پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں، عمران خان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کے جاری رکھنے اجلاس میں سب نیوز

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ