آئی ایم ایف کا وفد آج جوڈیشل کمیشن اور سپریم کورٹ کے حکام سے ملاقات کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
اسلام آ باد:
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے وفد نے زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے مختلف اداروں کے حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں ، ان ملاقاتوں کے دوران آئی ایم ایف کو انسداد بدعنوانی، مالی جرائم کی روک تھام کیلیے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اورآئی ایم ایف کو مشکوک ٹرانزیکشنز کی روک تھام، منی لانڈرنگ کیخلاف اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل کرنے پر زور دیا ہے، وفد کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلیے موئثر اقدامات سے آگاہ کیا گیا، ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ڈیجٹلائزیشن، اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر بریفنگ دی گئی، آئی ایم ایف وفد نے فیڈرل لینڈ کمیشن، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے حکام سے ملاقات کی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اور کاونٹرنگ فنانسنگ ٹیررازم اتھارٹی حکام سے ملاقات کے علاوہ کابینہ ڈویژن، وزارت خزانہ اور وزارت قانون کے حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کل جوڈیشل کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان حکام سے ملاقات کرے گا، وفد کو ججوں کی تعیناتی یا تقرر کے طریقہ کار اور آئینی و قانونی معاملات سے آگاہ کیا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف کا وفد آڈیٹر جنرل آف پاکستان سمیت کل مزید اداروں کے حکام سے ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکام سے ملاقات ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے حکام سے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :