غیر ملکی اہلکاروں کو رشوت دینے پر امریکیوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
امریکی صدر کے حکمنامے کی بدولت غیر ملکیوں کو رشوت دینے میں ملوث اہلکار اب امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی سے محفوظ ہو جائیں گے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ماضی اور حال میں اینٹی کرپشن کے تمام اقدامات کا اب محکمہ انصاف از سرنو جائزہ لے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریوں کو بیرون ممالک میں ٹھیکے لینے کیلئے غیر ملکی حکومتوں کو رشوت دینے کے دروازے کھول دیئے۔ صدر ٹرمپ نے جس حکمنامے پر دستخط کیے ہیں، اس میں اٹارنی جنرل Pam Bondi کو حکم دیا گیا ہے کہ نئے رہنماء اصول جاری ہونے تک وہ 1934ء کے قانون پر عمل روک دیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اینٹی کرپشن اقدامات امریکا کیلئے تباہی تھے، کیونکہ قانون کی خلاف ورزی کیے بغیر ان اقدامات کی وجہ سے بیرونی ملک کوئی معاہدہ عملی طور پر کرنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوگیا تھا۔ انہوں نے یہ تاثر دیا کہ کاروبار میں رشوت معمول سمجھی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے محکمہ انصاف کو حکم دیا ہے کہ وہ اس قانون پر عمل روک دیں، جو امریکی کارپوریشنز کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ غیر ملکی حکومتوں کے اہلکاروں کو رشوت دیں، تاکہ اپنے مالی مفادات حاصل کرسکیں۔ ٹرمپ حکمنامے کی بدولت غیر ملکیوں کو رشوت دینے میں ملوث اہلکار اب امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی سے محفوظ ہو جائیں گے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ماضی اور حال میں اینٹی کرپشن کے تمام اقدامات کا اب محکمہ انصاف از سرنو جائزہ لے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو رشوت دینے محکمہ انصاف
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔