پختونخوا اسمبلی کے باہر لاش رکھ کر احتجاج، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر پر قتل کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا اسمبلی کے باہر مشتعل افراد نے لاش رکھ کر احتجاج کیا، جس میں مظاہرین کی جانب سے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر پر قتل کا الزام عائد کیا۔نجی چینل کے مطابق ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف اسمبلی کے باہر خاتون کی لاش رکھ کر احتجاج کے دوران مظاہرین نے خاتون خیبر روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ 7 فروری کو قبضہ مافیا کے لیے گھر خالی کراتے وقت اے اے سی نے مبینہ طور پربیوہ خاتون پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی، جس کے بعد کئی دن تک اسپتال میں داخل رہنے کے بعد آج صبح خاتون اسپتال میں انتقال کر گئی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ٹاؤن کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ خاتون کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی چوک میں دھرنا دے دیا۔بعد ازاں پولیس سے مذاکرات کے بعد مظاہرین نے روڈ کھول دیا اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
بھارت میں عمارت سے پاکستانی 20 روپے کا ایک نوٹ ملنے پر دہشت پھیل گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مظاہرین نے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔