فینز نئے جنگلے لگنے کے باوجود میدان پر داخل ہونے میں کامیاب، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
کرکٹ کے متوالوں کو نیشنل اسٹیڈیم کے نئے آہنی جنگلے بھی فینز کو میدان میں داخل ہونے سے نہ روک سکے۔
تزین و آرائش اور تعمیر کے بعد افتتاحی تقریب کے موقع پر نیشنل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ میں تماشائیوں کے داخل ہونے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہونے لگی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ شب ہونے والی افتتاحی تقریب کے دوران متعدد مرتبہ تماشائی 10 فٹ بلند آہنی جنگلے پھلانگ کر میدان میں داخل ہو گئے، جس کے بعد سیکوریٹی اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئیں۔
مزید پڑھیں: "چیمپئینز ٹرافی شروع بھی نہیں ہوئی کہ بھارتیوں نے ٹیم کو ٹائٹل جتوادیا"
رکاوٹ عبور کرکے داخل ہونے والے افراد کو بے انتہا کوششوں کے بعد گرفت میں لے لیا گیا، تاہم ایک موقع پر گراؤنڈ میں داخل ہونے والے تماشائی کو اسٹیج پر بلالیا گیا۔
مزید پڑھیں: بابراعظم کا موبائل فون گم ہونا "مارکیٹنگ اسٹنٹ" نکلا، مداح ناراض
بعدازاں بدھ کو قومی سیریز میں پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ کے موقع پر سیکورٹی حکام کی جانب سے حفاظتی انتظامات کو مزید موثر بنانے کی کوشش کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: داخل ہونے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔