پاک ترک اسٹریٹجک تعلقات مستحکم کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
فوٹو بشکریہ ریڈیو پاکستان
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 24 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے۔
پاک ترکیہ اسٹریٹجک تعلقات مزید مستحکم کرنے کے اعلامیے پر جبکہ سماجی و ثقافتی بنیادوں پر ملٹری اور سول پرسنیلز کے تبادلے کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امید ہے رجب طیب اردوان کا دورۂ پاکستان بہت مفید ثابت ہو گا۔
دونوں ممالک کے درمیان ایئر فورس الیکٹرانک وار فیئر اور انرجی ٹرانزیشن کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، کان کنی کے شعبے میں تعاون، ہائیڈرو کاربنز کے شعبے میں پاک ترک تعاون کے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔
صنعتی پراپرٹی میں تعاون کے علاوہ ترکیہ سیکرٹریٹ آف ڈیفنس انڈسٹریز اور وزارت دفاعی پیداوار میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
ترکیہ ایرو اسپیس انڈسٹریز اور نیول ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ اور پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
شہباز شریف نے رجب طیب اردوان سے مصافحہ بھی کیا۔
ایکسپورٹ کریڈٹ بینک ترکیہ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جبکہ سامان کی تجارت بڑھانے کے حوالے سے مشترکہ وزارتی اسٹیٹمنٹ پر بھی دستخط کیے گئے۔
حلال ایکریڈیٹیشن اتھارٹی آف ترکیہ اور پاکستان حلال اتھارٹی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جبکہ لیگل میٹرولوجی انفرا اسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
اس کے علاوہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان میڈیا اور کمیونیکیشنز کے شعبوں میں تعاون، مذہبی خدمات اور مذہبی تعلیم کے شعبوں میں تعاون، سائینٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل ترکیہ اور این ٹی یو فیصل آباد کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں تکنیکی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رجب طیب اردوان دستخط کیے گئے پر بھی دستخط کی مفاہمتی میں تعاون
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔