کھپرو میں دل کے دورے کے باعث اموات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
کھپرو (نمائندہ جسارت)کھپرو میں ہارٹ اٹیک یا میجر اٹیک میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ غیر معیاری اشیا بازاروں میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ کھلے پکوان کی فروخت بھی جاری ہے جس پر سندھ حکومت کی پابندی ہونے کے باوجود بازاروں میں سرے عام فروخت ہوتا ہے جس کا فوڈ ڈپارٹمنٹ کوئی نوٹس نہیں لیتا جبکہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بھی جاگنے کو تیار نہیں وجہ معلوم نہ کر سکی کھپرو میں 15 روز کے دوران 10 اموات ہو گئی صرف8 سے 10 منٹ میں اموات ہوئی میجر اٹیک کہہ لیں وجہ صرف کھلا آئل ہے بازاروں میں فروخت ہونے والی غیر معیاری اشیا جو بازاروں میں فروخت ہو رہی ہے فوڈ ڈپارٹمنٹ صرف دفاتر تک محدود ہے خرچا پانی وصول کرنے میں مصروف ہے ۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے مطالبہ کیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔