شہر قائد میں ڈمپرز، ٹینکرز اور دیگر حادثات کے سبب شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافے کے معاملے پر جماعت اسلامی نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کے دن کے اوقات میں شہر میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

 درخواست گزاروں میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین اور رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق شامل ہیں جبکہ درخواست عثمان فاروق ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات، گورنر سندھ کا قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو دوسرا خط

 درخواست میں چیف سیکرٹری، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، کے ایم سی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ روز انہ کی بنیاد پر ڈمبرز لوگوں کو کچل رہے ہیں، کراچی کے اندر ڈمپرز، آئل ٹینکرز اور ہیوی ٹریفک پیک آورز میں چل رہی ہیں۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے اندر 8 ہزار سے زائد شہری ان حادثات میں زخمی ہوئے، جبکہ 2024 میں ٹریفک حادثات میں 773 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک حادثات ٹریفک پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور ہیوی ٹریفک کے خلاف حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں ڈمپر و ٹینکرز جلائے جانے کے واقعات، وزیر داخلہ سندھ کا سخت نوٹس

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹریفک حادثات کی ایک وجہ ٹوٹی سڑکیں بھی ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخلے سے روکا جائے اور کے ایم سی کو ٹوٹی سڑکوں کی مرمت کرنے کا حکم دیا جائے، کے ایم سی کو سڑکوں کی مرمت اور زیر التوا پروجیکٹ کے فنڈز کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے مانیٹرنگ نظام بنانے کا حکم دیا جائے اور متاثرہ شہری کے لئے معاوضہ فکس کرنے اور ادا کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

dumper jamat islami Karachi petition sindh high court Traffic.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اور ہیوی ٹریفک ٹریفک حادثات درخواست میں کے ایم سی گیا ہے کہ دیا جائے

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی