چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی،جسٹس منصور،جسٹس منیب،سمیت متعدد سینئر جج کسی کمیٹی کا حصہ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی،جسٹس منصور،جسٹس منیب،سمیت متعدد سینئر جج کسی کمیٹی کا حصہ نہیں WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )چیف جسٹس آف پاکستان یحیی آفریدی نے سپریم کورٹ کی متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی۔رپورٹ کے مطابق تشکیل نو سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی خیبر پختونخوا کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کی نگران جج مقرر کر دی گئیں، جسٹس ملک شہزاد پنجاب، جسٹس ہاشم کاکڑ بلوچستان کی انسداد دہشت گردی عدالتوں کے نگران مقرر کئے گئے ہیں۔جسٹس صلاح الدین پنور سندھ اور جسٹس عامر فاروق اسلام آباد کی اے ٹی سی عدالتوں کے نگران مقرر ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی بلڈنگ کمیٹی کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل کے سپرد کر دی گئی، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق بلڈنگ کمیٹی کے ممبران ہوں گے، چیف جسٹس آف پاکستان یحیی آفریدی آئی ٹی کمیٹی کی سربراہی خود کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس میاں گل حسن آئی ٹی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ریسرچ سینٹر کمیٹی کی سربراہی جسٹس شاہد بلال حسن کے سپرد کر دی گئی، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق ریسرچ سینٹر کمیٹی کے ممبران ہوں گے، جسٹس محمد علی مظہر لا کلرک پروگرام کمیٹی کے سربراہ اور جسٹس میاں گل حسن ممبر ہوں گے۔
مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سننے کیلئے 5 ججز کو نامزد کر دیا گیا، چیف جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس ہاشم کاکڑ چیمبر اپیلز سنیں گے، جسٹس صلاح الدین پنور اور جسٹس شکیل احمد بھی مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلوں کی سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ آرکائیو اینڈ میوزیم کمیٹی کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی کے سپرد کی گئی، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرکائیو کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔فوری انصاف اور ماڈل کورٹس سے متعلق کمیٹی کی سربراہی جسٹس ملک شہزاد کے سپرد کی گئی ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس اشتیاق ابراہیم ماڈل کورٹس کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
چیف جسٹس نے جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سکیورٹی جج تعینات کر دیا، سکیورٹی جج سپریم کورٹ بلڈنگ، برانچ رجسٹر یا اور ججز کالونی کے سکیورٹی امور دیکھیں گے۔جسٹس میاں گل حسن فیملی اور بچوں کی حوالگی کیسز میں پاک برطانیہ پروٹوکول کے رابطہ کار جج تعینات کئے گئے، سپریم کورٹ عملے کے یونیا فارم کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے قائم کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے تمام کمیٹیوں اور تقرریوں کے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کی چیف جسٹس تشکیل نو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔