امریکی ڈالر کے مقابل پاکستانی روپیہ تنزلی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 10 پیسے کے اضافے سے 279 روپے 36 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں روپے کی نسبت امریکی ڈالر تگڑا رہا۔ تفصیلات کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل 5 ماہ سرپلس رہنے کے بعد جنوری کے دوران خسارے میں آنے، درآمدات بڑھنے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباو کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں منگل کو بھی روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا، جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ ایک بار پھر 281 روپے سے تجاوز کرگئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر میں ایک موقع پر 3 پیسے کی کمی سے 279 روپے 23 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی، لیکن سپلائی میں قدرے بہتری آتے ہی معیشت میں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 10 پیسے کے اضافے سے 279 روپے 36 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 10 پیسے کے اضافے سے 281 روپے 8 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیسے کی سطح پر ڈالر کی قدر
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔