فائرنگ سے جاں بحق ساٹھ سالہ شوکت علی سی بلاک پیپلزکالونی نمبر دو کے رہائشی تھے، شوکت علی اہلخانہ کے ہمراہ کوئٹہ میں عزیز کی وفات پر گئے تھے، فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا دوسرا شخص سفیان انصاری رائے 273 را چک کا رہائشی تھا، 20 سالہ سفیان انصاری کوئٹہ میں لوہا ڈھلائی فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔  اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ سے پنجاب آنے والی مسافر بس کو ضلع بارکھان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دہشتگردوں نے شناختی چیک کرنے کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7مسافروں کو بیدردی سے قتل کردیا، فائرنگ سے جاں بحق ساٹھ سالہ شوکت علی سی بلاک پیپلزکالونی نمبر دو کے رہائشی تھے، شوکت علی اہلخانہ کے ہمراہ کوئٹہ میں عزیز کی وفات پر گئے تھے، شیخوپورہ کا رہائشی مقتول عاشق علی بھی مقتول شوکت کا رشتے دار تھا، مقتول شوکت علی رشتے دار خواتین کے ہمراہ واپس آ رہا تھا، موبائل فون کے سامان کی دکان کے مالک مقتول شوکت علی کا ایک بیٹا ہے، فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا دوسرا شخص سفیان انصاری رائے 273 را چک کا رہائشی تھا، 20 سالہ سفیان انصاری کوئٹہ میں لوہا ڈھلائی فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا، سفیان نے چار ماہ قبل ڈھلائی فیکٹری میں ملازمت حاصل کی تھی، مقتول سفیان ملازمت ملنے کے بعد پہلی بار گھر واپس آ رہا تھا، آٹھ بھائیوں میں سب سے بڑا سفیان ابھی غیر شادی شدہ تھا، مقتول سفیان کا باپ مقامی زمیندار کے پاس بطور مزارع کام کرتا ہے۔ سفیان اپنی منگنی کروانے کیلئے گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں دہشت گردی کا شکار ہو گیا، سفیان کی میت آبائی گاوں پہنچ گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار