کراچی: بلدیہ ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہو گیا۔
پولیس حکام کے مطابق مقتول عمر دوستوں کے ہمراہ گھر کے باہر بیٹھا ہوا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر لوٹ مار شروع کر دی۔
28 سال کے عمر نے ملزمان کو موبائل فون دیا جبکہ پرس نہ دینے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی۔
مقتول کو زخمی حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول محمد عمر چند روز قبل دبئی سے پاکستان آیا تھا، عمر دبئی میں والد کے ساتھ کپڑے کا کاروبار کرتا تھا۔
لواحقین نے بتایا ہے کہ مقتول کا آبائی تعلق درہ آدم خیل سے تھا، عمر 5 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔
مرنے والے نوجوان کی تدفین مواچھ گوٹھ قبرستان میں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔