اسلام آباد میں پیسے کے نشے میں دھت خاتون نے موٹر سائیکل سوار کو تشدد کانشانہ بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں آئے روز تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں بااثر افراد کے اہل خانہ غریب افراد پر دن دیہاڑے ظلم ڈھاتے ہیں لیکن ان کیخلاف قانون حرکت میں آنے کی تو دور کی بات ہے ان غریبوں کی تھانے کچہریوں میں فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ایسا ہی واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے ۔
View this post on InstagramA post shared by Pakistan Observer (@pakobserver)
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ ٹریک سوٹ میں ملبوس ایک خاتون مسلسل موٹر سائیکل سوار شخص کو نہ صرف غلیظ گالیاں دے رہی بلکہ تشدد کا نشانہ بھی بنا رہی ہے لیکن وہ موٹر سائیکل انتہائی صبر اور تحمل سے اس بے عزتی کو برداشت کر رہاہے کیونکہ اگر اس نے کوئی جواب دیا تو مقدمہ اسی کے خلاف درج ہو گاجبکہ یہ بااثر خاتون نہ جانے اس غریب موٹر سائیکل پر کس کس دفعہ کے تحت مقدمات درج کروا دے گی ۔
5ہزار سے زیادہ لوگ گرفتار ہوئے،103کو فوجی تحویل میں بھیجا گیا،کیا ان پر بھی وہی چارجز آئے جو فوجی تحویل والوں پر آئے؟ جسٹس مسرت ہلالی
یہ واقعہ دراصل اسلام آباد میں پولی کلینک ہسپتال کے قریب پیش آیا جس میں بائیکیا چلانے والے نوجوان کی موٹر سائیکل انتہائی معمولی انداز میں گاڑی کے ساتھ لگی جس سے گاڑی کا بظاہر کوئی نقصان بھی نہیں ہوا لیکن پیسے کے نشے میں دھت خاتون نے گاڑی سے اتر کر اس پر تشدد شروع کر دیا جبکہ قریب کھڑے لوگ بھی تماشہ دیکھتے رہے کیونکہ ہر کسی کومعلوم ہے کہ اس کے درمیان میں آنے کا نتیجہ کیا ہوگا کیونکہ پولیس شہریوں کے تحفظ کیلئے نہیں بلکہ امیروں اور بااثر افراد کے گھر کی چوکیدار بنی ہوئی ہے ۔
اس نامعلوم خاتون نے بائیک رائیڈر کی موٹر سائیکل کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی جبکہ چلاتی رہی کہ ’ ’میری گاڑی تم سے اور تمہاری موٹر سائیکل سے زیادہ قیمتی ہے ‘‘ ۔
پچھلے مالی سال میں حکومتی ملکیتی اداروں کا اوسط خسارہ 851 ارب روپے رہا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل اسلام ا باد
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔