کراچی میں بے رحم ڈکیتوں کے ہاتھوں ایک اور شہری قتل
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
رواں برس ڈاکوؤں کے ہاتھوں جان سے جانے والے شہریوں کی تعداد 13 ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔ رواں برس ڈاکوؤں کے ہاتھوں جان سے جانے والے شہریوں کی تعداد 13 ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ اتحاد ٹاؤن میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص دوران علاج اسپتال میں چل بسا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا ہے۔ اتحاد ٹاؤن میں ابوہریرہ مسجد کے قریب بلدیہ ہوم اسٹریٹ میں واردات کے دوران ڈاکو کے گولی مارنے سے شہری زخمی ہوا۔ زخمی کو طبی امداد کیلئے ٹراما سینٹر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ جاں بحق شخص کی شناخت 28 سالہ محمد عمر کے نام سے ہوئی۔ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی اور وقعے کی تحقیقات شروع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔