آرٹیفشل انٹیلیجنس کے حوالے سے منعقدہ ایک تعارفی سلسلہ نشست سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی مبصر کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو ہائبرڈ وار میں ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی شہر قم المقدس میں حوزوی طلباء کے لئے "تبیین میڈیا ایسوسی ایشن" کی جانب سے ایک علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد دینی طلاب کو آرٹیفشل انٹیلیجنس کے انسانی زندگی پر اثرات سے روشناس کروانا تھا۔ اس نشست کا عنوان "ہائبرڈ وار میں آرٹیفشل انٹیلیجنس" کا کردار تھا۔ یہ نشست میڈیا سے منسلک قم المقدسہ کے طلباء کی جانب سے رکھی گئی۔ نشست سے گفتگو کرتے ہوئے مہمان شخصیت حجت الاسلام "استاد مجتھد زادہ قمی" نے کہا کہ استعماری و استبدادی طاقتیں شیطان کی ایماء پر دیندار اور بے دین تمام انسانوں کے پیراڈائم کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی اور دماغی کنٹرول کو cognitive war (شناخت کی جنگ) کہتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو اس جنگ میں ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو رہا یے۔ اس سے بچاؤ کے لئے شناختی مراحل کو سمجھنا اور حقیقی شناخت پر یقین ہونا ہی انسانیت کی بقاء کا ضامن ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش