اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 فروری2025ء)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امن اور بحران دونوں وقتوں میں تربیت یافتہ سکاؤٹس کا گراں قدر کردار رہا ہے۔مستقبل میں اس تحریک میں ہمیں جدید اور پرکشش اقدامات کا نفاذ کرنا ہوگا جو نوجوان ذہنوں کو چیلنج، تحریک و جدت کو فروغ اور کردار کو مضبوط کریں۔اسکاؤٹس کے عالمی دن پر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسکاؤٹس کے اس عالمی دن پر، میں پاکستان اور دنیا بھر کے اسکاؤٹس کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ آج کے دن ہم قیادت، برادری اور خدمت کے جذبے کو منا رہے ہیں جو اس پوری تحریک کی بنیاد ہے۔

ہر سال 22 فروری کو، دنیا بھر میں اسکاؤٹس، اسکاؤٹنگ کی تحریک کے بانی لارڈ رابرٹ سٹیفنسن سمتھ بیڈن پاول کی میراث کو عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کی تاریخ میں نمایاں کارکرگی، بالخصوص جب یہ اپریل 2025 میں 15 ویں نیشنل جمبوری کی تیاری کر رہی ہے، باعث مسرت ہے۔ اپنے ویژن 2030 اور ورلڈ اسکاؤٹ بیورو کے ایشیا پیسیفک ریجن کے ساتھ تعاون سے، ایسوسی ایشن بین الاقوامی شراکت کو مضبوط بنانے، پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بہترین پریکٹسز کا تبادلہ کرنے اور پاکستان کی عالمی اسکاوٹنگ کیلئے خدمات کو نمایاں کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ امن اور بحران دونوں وقتوں میں تربیت یافتہ سکاؤٹس کا گراں قدر کردار رہا ہے۔ اسکاوٹس، اسکاؤٹنگ کے نصب العین کی جیتی جاگتی مثال ہیں جو کہتا ہے کہ لچک، قیادت، اور بے لوث خدمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ''تیار رہو''۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اسکاؤٹنگ کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاکہ ''ایک محفوظ، صاف ستھری اور ترقی یافتہ دنیا کی تعمیر کے لیے، ہمیں فرد سے شروعات کرنی چاہیے۔

آئیے ہم اسے (فرد کو) نوجوانی میں ہی تیار کریں اور اس کے اندر اسکاؤٹنگ کے نصب العین کے مطابق اپنی ذات سے بالا تر ہوکر خدمت، سوچ، قول اور عمل میں پاکیزگی پیدا کریں۔''انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس تحریک میں ہمیں جدید اور پرکشش اقدامات کا نفاذ کرنا ہوگا جو نوجوان ذہنوں کو چیلنج، تحریک و جدت کو فروغ اور کردار کو مضبوط کریں۔ ''میسنجر آف پیس'' جیسے اقدامات اسکاؤٹس کو اتحاد، ہم آہنگی اور بامعنی سماجی اثرات کو فروغ دینے کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، جو انہیں عالمی شہری بننے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان میں اسکاؤٹ تحریک یونہی فروغ پاتی رہے گی، جس سے ہر لڑکے اور لڑکی کو اسکاؤٹنگ کی اقدار کو اپنانے اور قوم کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنے کی ترغیب ملے گی۔ اسکاؤٹس ڈے مبارک ہو!.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار