چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد انہیں ملکی حالات سے آگاہ کرنا تھا: عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
سرگودھا ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و رہنما تحریک انصاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سے ملاقات کا مقصد انہیں ملکی حالات سے آگاہ کرنا تھا۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران انہیں تمام حالات سے آگاہ کر دیا ہے، امید ہے پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوگا ، ہمارے اوپر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ ابھی تک نہیں تھم سکا۔انہوں نے کہا کہ موثر عدالتی نظام کے لئے پی ٹی آئی جلد اپنی تجاویز باضابطہ طور پرچیف جسٹس کو دیگی ، پی ٹی آئی کے پاس بہتر لیگل ٹیم موجود ہے ، جب تک عدالتی نظام میں بہتری نہیں آتی لوگوں میں غم و غصہ بڑھے گا ، دو مرتبہ بغیر آلات اور مانیٹرنگ کے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست کی ، دونوں مرتبہ حکومت نے حامی بھر کر ملاقات کرانے سے انکارکیا۔
عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالات بدستور کشیدہ چل رہے ہیں ، فوج کے جوان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں ، ملک میں کوئی حکومت نام کی چیز نہیں جو حالات کو بہتر بنائے ، موجودہ حکومت کے پاس وہ ویژن ہی نہیں جس سے حالات بہتر کئے جا سکتے ہیں، ہم نے تو اسی ملک میں رہنا ہے ہمارے آباو اجداد یہیں رہتے رہے ہیں۔
وزیراعظم کا راجن پور میں یونیورسٹی، ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال کے قیام کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔