ڈیرہ اسماعیل خان، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 7 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
ڈی آئی خان:
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دو الگ کارروائیوں میں 7 خوارج کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سےجاری بیان کے مطابق ضلع ڈیرہ غازی خان میں درابن کے شہری علاقے میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
بیان میں بتایا گیا کہ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 4 خوارج ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے مدی کے علاقے میں دوسری کارروائی کی جہاں اہلکاروں نے تین خوارج کو ہلاک کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا گیا اورہلاک خوارج مذکورہ علاقے میں ہونے والی متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مزید کسی خوارج کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔