بھارتی گلوکار گرو رندھاوا اسٹنٹ کے دوران زخمی، اسپتال داخل
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
پنجابی گلوکار اور اداکار گرو رندھاوا اپنی آنے والی فلم ’شانکی سردار‘ کےلیے اسٹنٹ کرتے ہوئے چوٹ لگنے سے زخمی ہوگئے۔
گرو رندھاوا نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ اسپتال کے بستر پر لیٹے نظر آرہے ہیں۔ تصویر میں ان کے چہرے پر خراشیں بھی نمایاں ہیں۔
انہوں نے تصویر شیئر کراتے ہوئے کیپشن میں لکھا، ’’میرا پہلا اسٹنٹ، میری پہلی چوٹ، لیکن میری روح مضبوط ہے۔ فلم ’شانکی سردار‘ کے سیٹ سے ایک یاد۔ ایکشن والا کام بہت مشکل ہے، لیکن اپنے ناظرین کےلیے سخت محنت کروں گا۔‘‘
A post common by Guru Randhawa (@gururandhawa)
گرو رندھاوا کی پوسٹ پر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ان کے دوستوں کی جانب سے تشویش اور نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
انوپم کھیر نے گرو کہ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کی کہ ’’آپ سب سے بہترین ہیں، جلد صحتیاب ہوں۔‘‘ جبکہ گلوکار میکا سنگھ نے بھی گرو کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ گرورندھاوا بھارتی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، اور ایک معروف گلوکار، شاعر اور میوزک کمپوزر ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں ’لاہور‘، ’اشارے تیرے‘، ’سلولی سلولی‘ اور ’تیرے تے‘ شامل ہیں۔
گرو رندھاوا اپنی نئی فلم ’شانکی سردار‘ میں نمرت اہلووالیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو اگلے سال ریلیز ہوگی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: گرو رندھاوا
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔