قلات: معدنیات لے جانے والے قافلے پر شرپسندوں کا حملہ، 7 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع قلات کی تحصیل منگوچر میں پیر کی شب شر پسند عناصر نے معدنیات لے جانے والے قافلے پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 6 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں کوئٹہ: مسلح افراد کا پولیس موبائل پر حملہ، جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور ہلاک
ڈپٹی کمشنر قلات بلال شبیر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ واقعہ منگوچر کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب مدنیات کے ٹرک کو کوئٹہ سے کراچی لے جایا جا رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ منگوچر کے مقام پر پل کے قریب آئی ای ڈی دھماکے سے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا، تاہم ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے، جن کی تلاش کے لیے آپریشن کیا جارہا ہے۔
بلال شبیر نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کی ہلاکت سے متعلق تاحال اطلاعت موصول نہیں ہوئیں، تاہم واقعے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہری کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے سے پل کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے حوالے سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو آگاہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں کوئٹہ بڑی تباہی سے بچ گیا، مبینہ خود کُش حملہ آور خاتون گرفتار
لیویز حکام کے مطابق حملے کے بعد دونوں اطراف ٹریفک کو روک دیا گیا تھا جس کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں، تاہم بعد ازاں ٹریفک کو بحال کردیا گیا، جس میں فی الحال صرف چھوٹی گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان حملہ ڈپٹی کمشنر زخمی شرپسند قلات معدنیات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان حملہ ڈپٹی کمشنر قلات معدنیات وی نیوز حملہ ا
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا