نیتن یاہو کے بیٹے نے والد پر حملہ کیا؟ اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
نیتن یاہو کے بیٹے نے والد پر حملہ کیا؟ اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز
تل ابیب: اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے، یائیر نیتن یاہو، کو والد پر مبینہ حملے کے بعد میامی، امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔
یہ الزام لیبر پارٹی کی رکن کنیسٹ (پارلیمنٹ) نعامہ لازیمی نے لگایا، جنہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ یائیر نیتن یاہو کی امریکہ میں قیام کے لیے سیکیورٹی فنڈز جاری رکھنے کا کیا جواز ہے؟
نعامہ لازیمی نے کہا کہ یائیر نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے “ریاستی اختیار کی علامت” کی بے حرمتی کی، اس لیے عوامی فنڈز کے ذریعے ان کے میامی قیام کی مالی مدد کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق، نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے دو ماہ کے غیر ملکی قیام کے اخراجات کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی نے اس دعوے کو “جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی” قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی مخالفین کی جانب سے بے بنیاد الزام تراشی ہے۔
یائیر نیتن یاہو 2023 میں اسرائیل چھوڑ کر پہلے پورٹو ریکو اور پھر میامی منتقل ہوگئے تھے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر ہیں اور اسرائیل میں نارمل زندگی گزارنا ممکن نہیں۔
اس معاملے پر قانونی جنگ جاری ہے، اور یہ تنازع نیتن یاہو خاندان کی سرگرمیوں اور عوامی فنڈنگ کے حوالے سے وسیع تر سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔