Daily Ausaf:
2026-06-03@06:17:52 GMT

فٹبال !نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے

اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT

پاکستان جو کبھی ایشیا میں فٹ بال کے میدان میں اپنا ایک مقام رکھتا تھا آج اس کھیل کے زوال کی داستان بن چکا ہے۔ فٹبال جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے پاکستان میں اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ اس گرتی ہوئی صورتحال کے پیچھے کئی عوامل ہیں جن میں سب سے اہم پاکستان فٹبال فیڈریشن کی اندرونی سیاست، کرپشن ، انتظامیہ کی نااہلی، اور کھیل کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر عدم توجہی شامل ہیں۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن پر براجمان چیئرمین نارملائزیشن کمیٹی ہارون ملک کی “محنت” رنگ لے آئی اور فٹبال کی عالمی تنظیم “فیفا” نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کر دی۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کی تاریخ انتظامی بحران، سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کی جنگ سے بھری پڑی ہے۔ فیڈریشن کے اندر گروہ بندی، اقتدار کی کشمکش اور عہدوں کے لیے ہونے والی سازشیں فٹبال کے فروغ کے بجائے اس کے زوال کا سبب بنی ہیں۔ کئی بار فیڈریشن کے انتخابات متنازعہ رہے ۔سال کے انتخابات کے بعد دو گروپوں کے درمیان اقتدار کی جنگ نے فیڈریشن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروپ نے فیڈریشن کے دفاتر پر قبضہ کر لیا جبکہ دوسرے گروپ نے عدالتوں کا رخ کیا۔ اس تنازعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ فیفا نے پاکستان پر پابندی لگا دی جس سے ملک میں فٹبال کی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو گئیں۔ بے بس اور اختیارات کے حوالے سے برائے نام اور کاغذی کارروائی کی حامل اور محض اجلاس اجلاس کھیلنے والی” آئی پی سی” پاکستان میں فٹبال کی تباہی اور اس کھیل کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا لگتے دیکھنے کے بعد اب کچھ متحرک ہوئی ہے، مگر بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین مبینہ طور پر خود ایک فل صدر بننا چاہتے ہیں اسی چکر میں وہ پی ایف ایف کے آئین میں یہ ترمیم کروانا چاہتے ہیں کہ فیڈریشن کے صدر کا کانگریس ممبرز سے باہر کوئی بھی الیکشن لڑ سکتا ہے کانگریس ممبران نے اس ترمیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔جس پر انہوں نے اپنے طور پر فیفا میں موجود اپنے رابطوں کے ذریعے اپنا کام دکھا دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ” نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے!
اب پھر وہی تقریباً چار سال پرانی ریہرسل دوبارہ ہو گی فیفا کو یقین دہانی کروائی جائے گی کہ کوئی حکومتی مداخلت نہیں ہوئی۔ فیفا کی طرف سے رکنیت معطلی سے چند گھنٹے قبل قومی اسمبلی کی اسٹیندنگ کمیٹی برائے آئی پی سی کا اجلاس ہوا جس میں ہارون ملک پیش ہوئے اور اپنی ساری سرگزشت بیان کی کہ سب کچھ ٹھیک کیا ہے کلبوں کی سکروٹنی،ڈسٹرکٹس کے الیکشن اور مبینہ طور پر تین خواتین ممبرز کی بطور کانگریس ممبرز تعیناتی شامل ہے،اسٹیندنگ کمیٹی میں ڈی جی پی ایس بی اور ڈپٹی ڈی جی پی ایس بی بھی شریک تھے۔ اب یہ معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔یہ فوری حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔اس کو حل کرنے کیلئے کوئی آگے بھی نہیں آئے گا سب اسپورٹس فیسٹیول۔۔ اسپورٹس فیسٹول کھیلنے میں مصروف ہیں۔
قارئین محترم کوئی مانے یا نہ مانے اس وقت اسپورٹس فیڈریشنز پر براجمان آرگنائزرز صرف اور صرف اپنے عہدوں کو طول دینے پر اپنی تمام مصروفیات اور رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں ان میں سے اگر کوئی تھوڑا بہت پیسہ بچ جائے تو اس پر کھیلوں کے فروغ” کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے یہی حقیقت اور ایک کڑوا سچ ہے۔ فیفا نے پاکستان کی رکنیت معطل تو کر دی لیکن حقیقت میں اس سے قبل بھی پی ایف ایف کی حالت معطلی والی ہی تھی کوئی ڈومیسٹک ایکٹیوٹیز نہیں تھیں۔ پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کھلاڑیوں کے کروڑوں روپے ڈکار گئی اور اب کمیٹی کی مزید موجیں لگ گئیں، اطلاعات کے مطابق فیفا موجودہ نارملائزیشن کمیٹی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ فروری کے بعد کرے گی کہ کمیٹی کی توسیع ہو گی یا نئی کمیٹی بنے گی۔
پاکستان میں فٹبال کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ اگرچہ کچھ نوجوان کھلاڑی اور کوچز اس کھیل کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی کوششیں انتظامیہ کی نااہلی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بارآور ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے پی ایف ایف کے اندرونی تنازعات کو حل کرنا ہوگا۔ فیڈریشن کو ایک مضبوط اور شفاف انتظامیہ کی ضرورت ہیجو فٹبال کے فروغ کے لیے کام کرے۔اس وقت وفاقی وزارت کھیل بھی نہ ہونے کے برابر ہے یہ وزارت آئی پی سی کی وزارت میں ضم کی گئی ہے اور مسلم لیگ کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ خان وزیر برائے آئی پی سی ہیں، وہ اگر چاہیں تو فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے معاملات کو بہتر بنا سکتے ہیں مگر ان کی ترجیحات میں شاید کھیلوں پر توجہ شامل نہیں ۔ وزارت کھیل کو فٹبال کے لیے فنڈز مختص کرنے چاہئیں اور کھیل کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ گراس روٹ لیول پر فٹبال کو فروغ دینے کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں فٹبال ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو کوچنگ اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے ایشین کپ کوالیفائرز سے دستبرداری کا فیصلہ پاکستان فٹبال کے لیے ایک المیہ ہے۔ یہ قدم نہ صرف قومی ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ اس سے پاکستان فٹبال کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان فٹبال بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت کھو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس کھیل کو بچانے اور اسے فروغ دینے کے لیے کام کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نارملائزیشن کمیٹی فیڈریشن کے پی ایف ایف میں فٹبال فٹبال کے کے فروغ اس کھیل کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت