وسطی امریکی ملک بیلیز کے ساحلی علاقے میں 3 نوجوان لڑکیوں کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
وسطی امریکی ملک بیلیز کے ایک ساحلی علاقے میں سیاحت کی غرض سے آنے والی 3 امریکی لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوٹل کا عملہ شک ہونے پر خواتین کے کمرے میں ماسٹر چابی سے دروازہ کھول کر داخل ہوا تو تینوں کو مردہ پایا۔
کمرے میں کسی کے داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور نہ ہی خواتین کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔
لاشوں کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ لاشوں کو فوراً قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ خواتین کی موت کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔
شُبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تینوں کی موت ممکنہ طور پر منشیات کی زیادہ مقدار کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں خواتین کے کمرے میں سے شراب اور دیگر نشہ آور چیزیں بھی ملی ہیں۔
تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ منشیات امریکا سے لائی گئی تھی یا مقامی لوگوں سے خریدا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔