یہ مچھلی ہے یا ایلین؟ گہرے سمندر سے نکلنے والی سمندری مخلوق نے سب کو خوفزدہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
ماسکو: روس کے ایک ماہی گیر نے گہرے سمندر میں ایک ’عجیب الخلقت مچھلی‘ پکڑی، جس کی غیرمعمولی شکل نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی۔ اس مچھلی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین اسے ’ایلین‘ قرار دے رہے ہیں۔
ماہی گیر رومن فیڈورٹسوو، جو سمندری مخلوقات کی انوکھی تصاویر شیئر کرنے کے لیے مشہور ہیں، نے حالیہ دریافت میں ’لمپ سکر‘ نامی ایک نایاب مچھلی کی ویڈیو پوسٹ کی۔
اس بھدے اور بلبلے نما جسم والی مچھلی کو دیکھ کر لوگوں نے اسے ’Mars Attacks‘ اور ’Megamind‘ فلموں کے خلائی کرداروں سے تشبیہ دی۔
مچھلی کو جہاز کی ریلنگ پر رکھی دیکھا جا سکتا ہے، جس کا جیلی نما جسم اور غیرمعمولی خدوخال اسے اور بھی خوفناک بناتے ہیں۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا: "یہ تو 100% خلائی مخلوق لگ رہی ہے!، دوسرے نے مذاق میں لکھا: "کہیں یہ چرنوبل کی پیداوار تو نہیں؟" کچھ نے تو مچھلی کو ’خطرناک‘ قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔
ماہرین حیاتیات کے مطابق، یہ مچھلی گہرے پانی میں رہتی ہے اور اسے اوپر لانے پر دباؤ میں تیزی سے کمی کے باعث اس کا جسم پھول جاتا ہے۔ عام طور پر لمپ سکر مچھلی پتھروں سے چمٹنے کے لیے ایک خاص سکشن ڈسک کا استعمال کرتی ہے اور انتہائی نچلی سطحوں پر پائی جاتی ہے۔
فیڈورٹسوو اکثر خوفناک وولف فش، جیلی نما سمندری مخلوقات اور دیگر عجیب مچھلیوں کی تصاویر شیئر کرتے ہیں، جو گہرے سمندر کے پراسرار رازوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کی نئی دریافت نے ایک بار پھر انسانوں کو سمندر کی گہرائیوں میں چھپے ناقابل یقین رازوں پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔