سمندری طوفان ملیسا کی تباہ کاریاں جاری؛ ہلاکتیں 50 تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
سمندری طوفان ملیسا سے کیریبین کے مختلف جزائر میں ہلاکتوں کی تعداد 50 تک ہوگئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ملیسا طوفان نے جمیکا، کیوبا اور ہیٹی میں شدید تباہی مچائی جس کے نتیجے میں اب تک 50 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
امریکی نیشنل ہریکین سینٹر کا بتانا ہےکہ طوفان کے باعث جمیکا میں 19 اور ہیٹی میں 30 افراد ہلاک ہوچکے جب کہ 20 لوگ زخمی اور 20 لاپتا ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ طوفان کے باعث مکانات، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا جب کہ اب تک تقریباً 8 لاکھ افراد کو متاثرہ علاقوں سے منتقل کردیا گیا ہے۔
امریکی نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق کیوبا، جمیکا، ہیٹی اور ڈومینکن ریپبلک میں تباہی کے بعد طوفان اب برمودا کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں طوفان کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔