WE News:
2026-07-24@01:41:52 GMT

مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں زوما نامی لڑکی کی انٹری

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں زوما نامی لڑکی کی انٹری

مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمان ارمغان اور شیراز کو جوڈیشل کمپلیکس میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جہاں ارمغان کی والدہ نے ملزم سے ملنے کی کوشش کی، پولیس نے ملزم کی والدہ کو روک دیا اور کہا کہ سیکیورٹی رسک کی وجہ سے افسران بالا نے منع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس، کیا ارمغان بھی منظر سے غائب ہونے کے بعد بری ہوجائے گا؟

ملزم ارمغان کی والدہ نے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا کہ ارمغان میں نے آپ کے لیے وکیل کیا ہے، طاہرالرحمان اچھے وکیل ہیں یہ شاہ رخ جتوئی اور بلدیہ ٹان کا کیس بھی لڑچکے ہیں، وکالت نامے پر دسخط کردو آپ کو فائدہ ہوگا، ارمغان نے جواب دیا کہ میں نے ایک وکیل کے وکالت نامے پر دستخط کردیے ہیں، جس پر والدہ نے کہا کہ لیکن عدالت میں تمہاری طرف سے کوئی وکیل نہیں آیا۔

سماعت شروع ہوئی تو پولیس نے ملزمان کے مزید 14 دن کے ریمانڈ کی درخواست عدالت میں جمع کروائی، درخواست میں پولیس کا مؤقف تھا کہ  ملزمان ارمغان اور شیراز کی شناخت پریڈ کرانی ہے، ملزمان کے خلاف ارمغان کے ملازمین کا 164 کا بیان بھی ریکارڈ کرانا ہے، ملزمان سے مزید تفتیش بھی باقی ہے۔

عابد زمان ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ ملزم ارمغان سے وکالت نامہ سائن کرانے کے اجازت دی جائے جبکہ والدہ ارمغان نے بیٹے سے ملاقات کرانے کی درخواست کی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کورٹ میں ملاقات کرسکتے ہیں اس کے علاوہ نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کو پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟ رپورٹ عدالت میں جمع

 عدالت نے ملزم ارمغان سے استفسار کیا کہ آپ کسے اپنا وکیل کرنا چاہتے ہیں؟ ارمغان  نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا میں عابد زمان اور طاہر الرحمان دونوں کو اپنا وکیل کرسکتا ہوں؟ ارمغان کی والدہ اور والد نے  ملزم کو کہا کہ جی آپ دونوں کو کرلیں جبکہ عدالت نے ملزم کو ہدایت کی کہ ایک وقت میں ایک ہی وکیل کا وکالت نامہ جمع کرسکتے ہیں آپ، بتائیں آپ کسے اپنا وکیل کرنا چاہتے ہیں؟ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ میں عابد زمان ایڈووکیٹ کو اپنا وکیل کرنا چاہتا ہوں۔

عابد زمان ایڈووکیٹ نے ملزم ارمغان کا میڈیکل معائنہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ میرے موکل کا میڈیکل ٹریٹمنٹ کرایا جائے، ملزم ارمغان کو پرسوں سٹی کورٹ لیجایا گیا، پولیس گواہان کا 164 کا بیان کرانا چاہتی ہے لیکن ہمیں نوٹس نہیں دیا۔

ملزم ارمغان نے  عدالت میں بیان دیا کہ مجھے اذیت میں رکھا ہوا ہے، مجھے کھانے کے لیے نہیں دیا جارہا ہے، پولیس تھانے لے جاکر میرا مذاق اڑاتی ہے، مجھے ہنس کرکہا جاتا ہے کہ تمہارا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل: تشدد اور زندہ جلانے سے پہلے مبینہ قاتل کی فلمی ولن جیسی حرکتیں

وکیل ارمغان کا کہنا تھا کہ میرے موکل کے گھر پر جب چھاپہ مارا گیا تو ارمغان کی والدہ نے 15 پر کال کی تھی، ارمغان کی والدہ کا بھی بیان لیا جائے، والدہ ارمغان نے بتایا کہ میں نے ہی پولیس کے سامنے بیٹے کو پیش کیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت میں زوما نامی لڑکی کے ملنے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ زوما نامی لڑکی مل گئی ہے جس پر ملزم ارمغان نے تشدد کیا تھا، اس لڑکی کا ڈی این اے کرانا ہے، چشم دید گواہان کا زیر دفعہ 164کا بیان کرانا ہے، ملزم کا ریمانڈ دیا جائے۔

 ارمغان نے عدالت سے استدعا کی کہ میرا ریمانڈ نہیں دیں میں پولیس کسٹڈی میں نہیں جانا چاہتا، پولیس مجھ سے کہتی ہے کہ تمہارا ریمانڈ لے لیا ہے اب تمہیں اور تنگ کریں گے۔

  تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جہاں ملزم نے نوٹس لینے سے انکار کردیا، پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں کا کہنا تھا کہ ملزم بہت شاطر ہے، ہائیکورٹ کے حکم پر ملزم کا میڈیکل ہوچکا ہے، جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل ہوسکے۔

تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ ملزم سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے اگر ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا تو تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

عدالت نے ملزمان ارمغان اور شیراز  کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کرتے ہوئے ملزمان کا میڈیکل چیک کرانے کی ہدایت کی ہے، عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر تفتیش مکمل کرکے پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسداد دہشتگردی عدالت تفتیشی افسر ریمانڈ زوما کراچی مصطفیٰ عامر ملزم ارمغان وکیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت تفتیشی افسر کراچی مصطفی عامر وکیل ارمغان کی والدہ تفتیشی افسر عدالت میں اپنا وکیل کا میڈیکل والدہ نے عدالت نے نے عدالت بتایا کہ پولیس نے کہ ملزم قتل کیس کہا کہ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا