پریس کانفرنس سے خطاب میں پی ایل ایف رہنماؤں نے کہا کہ ملک بھر میں فلسطین کی حمایت میں بینرز آویزاں کئے جائیں گے اور مورخہ پانچ مارچ کو کراچی کے مقامی ہال میں گرینڈ فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ مورخہ 9 مارچ کو مختلف ممالک کے سفیروں اور دانشوروں کو دعوت دے کر تیسری عالمی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کراچی میں کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سرپرست اراکین نے کراچی پرس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان ماہ رمضان میں  ملک بھر میں فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لئے خصوصی مہم بعنوان ”فلسطین کا مہینہ“ چلائے گی، اس مہم کے دوران ملک بھر میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین اور لبنان میں اسرائیلی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے امدادی سرگرمیوں کی ترغیب دی جائے گی۔ ان کاکہنا تھا کہ ملک بھر میں یکجہتی فلسطین کانفرنسز کے ساتھ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں بھی نکالی جائیں گی جبکہ تشہیری مہم بھی چلائی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ماہ رمضان ماہ فلسطین مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور فلسطینیوں کی مدد کے لئے مالی، اخلاقی، سیاسی او دینی تعاون سے گریز نہ کریں۔ رہنماؤں نے حکومت پاکستان ست مطالبہ کیا کہ ماہ رمضان کے آخری جمعہ جسے دنیا بھر میں عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، پاکستان بھر میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجتی کا بھرپور ثبوت دیا جائے۔

کراچی پریس کلب پر منعقدہ پریس کانفرنس سے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی سرپرست کمیٹی کے اراکین بشمول جماعت اسلامی کے نائب امیر مسلم پرویز، متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان ایڈوکیٹ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صدر علامہ باقر زیدی، جمعیت علمائے پاکستان کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما پیر ازہر علی شاہ ہمدانی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یونس بونیری، کشمیری رہنما بشیر سدوزئی، تاجر رہنما ثاقب نوشاہی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ او ر لبنان کی مزاحمتی تحریکوں نے عالمی سامراج کے بھرم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس فلسطینیوں کی منتخب کردہ جماعت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت غزہ کے لوگوں کو حماس سے جدا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے غزہ سے متعلق امریکی صدر کے منصوبہ کو غیر منطقی اور سیاسی نسل کشی کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عرب حکومتوں کا رویہ شرمناک ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت یورپی ممالک کی ان تمام کمپنیوں کا بائیکاٹ جاری رکھیں جو غزہ اور لبنان میں نسل کشی میں اسرائیل اور امریکہ کی مدد گار ہیں۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سرپرست رہنماؤں نے ماہ رمضان کے پروگرامز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں فلسطین کی حمایت میں بینرز آویزاں کئے جائیں گے اور مورخہ پانچ مارچ کو کراچی کے مقامی ہال میں گرینڈ فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ مورخہ 9 مارچ کو مختلف ممالک کے سفیروں اور دانشوروں کو دعوت دے کر تیسری عالمی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کراچی میں کیا جائے گا جبکہ عین اسی وقت کوئٹہ میں بھی یکجہتی فلسطین کانفرنس منقد کی جائے گی، اسلام آباد میں ماہ رمضان کے دوسرے ہفتہ کے دوران یکجہتی کا فلسطین کا نفرنس کا انعقاد 15 مارچ کو کیا جائے گا جبکہ 18 مارچ کو لاہور میں بھی یکجہتی فلسطین کانفرنس بلائی جائے گی، جمعۃالوداع کو ملک بھر میں عالمی یوم القدس منایا جائے گا اور اس عنوان سے تصویری نمائشوں کے ذریعہ فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے امریکی و اسرائیلی مظالم کو آشکار کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ ملک بھر میں پاکستان کے اور فلسطین ماہ رمضان فلسطین کا جائے گی مارچ کو کے لئے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم