یشما گل نے ہانیہ عامر کو بہن قرار دے دیا، سرپرائز برتھ ڈے پارٹی پر لاکھوں خرچ کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ یشما گل نے حالیہ انٹرویو میں ہانیہ عامر کے ساتھ اپنی گہری دوستی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی بہن قرار دیا انٹرویو کے دوران میزبان نے ان سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے جن میں ان کی وائرل ہونے والی سرپرائز برتھ ڈے پارٹی کا ذکر بھی شامل تھا میزبان نے سوال کیا کہ یشما گل نے ہانیہ عامر کی سالگرہ کی تقریب پر لاکھوں روپے خرچ کیے اس کی کیا وجہ تھی؟ اس پر یشما نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ چونکہ یہ سرپرائز پارٹی تھی اس لیے اس پر زیادہ خرچ آیا تاہم جب میزبان نے بجٹ کے بارے میں مزید پوچھا تو انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا یشما گل کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر ان کی بہترین دوست ہیں اور وہ انہیں اپنی بہنوں جیسا مانتی ہیں مزید گفتگو میں میزبان نے ان سے پوچھا کہ وہ سب سے زیادہ کس چیز پر خرچ کرتی ہیں؟ اس پر یشما نے ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ اخراجات میں بے حد آزاد ہیں یہاں تک کہ ان کا کارڈ ان کی ملازمہ اور اسسٹنٹ کے پاس ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں اور انہیں خود بھی اپنے اخراجات کا مکمل حساب نہیں ہوتا انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں وہ گھر خریدنے کا سوچ رہی ہیں اور جب ایک دوست نے ان کے لیے مہنگے گھروں کی تجویز دی تو انہوں نے مذاق میں کہا میں اڑاتی زیادہ ہوں اور کماتی کم ہوں یشما گل کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے اور ان کے مداحوں نے ان کی بے تکلفی اور دوستی کے جذبے کو خوب سراہا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر یشما گل
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔