امریکا کے ساتھ معدنیات کے معاہدے کیلئے تیار ہیں، زیلنسکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ معدنیات کے معاہدے کیلئے تیار ہیں۔
زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مجھے یقین ہے امریکا کے ساتھ تعلقات جاری رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھی معدنیات کے معاہدے کیلئے تیار ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے جھگڑے کے بعد لندن میں 18 ممالک کا یوکرین کی حمایت میں اجلاس ہوا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک یوکرین کے ساتھ جنگ روکنے کے منصوبے پر کام کریں گے، جسے امریکا کے سامنے پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکا کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا، یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ یہ براعظم امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اجلاس میں شریک سربراہان نے اتفاق کیا ہے کہ جب تک جنگ جاری ہے یوکرین کو فوجی امداد جاری رکھی جائے گی، روس پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کو یوکرین کی سلامتی کے لیے دفاعی کوششیں بڑھانی ہوں گی، یوکرین کی سلامتی میں ہی پورے براعظم یورپ کا استحکام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت یوکرین کو یوکے ایکسپورٹ فنانس کے ایک اعشاریہ چھ ارب پاؤنڈ استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکا کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔