برطانیہ، جرائم کی شرح بڑھنے سے ملک کو سالانہ 250 بلین پاؤنڈز کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
برطانیہ میں تیزی کے ساتھ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث ملک کو سالانہ 250 بلین پاؤنڈز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پولیسنگ اور فوجداری انصاف میں خرابی کے لیے کفایت شعاری کو ذمہ دار ٹھہرانے والی ایک رپورٹ کے مطابق جرائم کی بڑھتی ہوئی سطح سے برطانوی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔
سینٹر رائٹ تھنک ٹینک پالیسی ایکسچینج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس، جیلوں اور عدالتوں کے لیے فنڈنگ میں کئی سالوں سے کٹوتیوں نے جرائم میں ڈرامائی اضافہ کیا ہے جو کہ معیشت کو پھلنے پھولنے سے روک رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیگر جرائم کے ساتھ شاپ لفٹنگ کی ایک وباء کاروباروں، پبلک سیکٹر اور افراد کو سخت متاثر کر رہی ہے جس کی براہ راست لاگت تقریباً 170بلین پاؤنڈ سالانہ یا مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 6.
حکومت پر عوامی خدمات اور دفاعی اخراجات کے لیے رقم تلاش کرنے کے دباؤ کے ساتھ پالیسی ایکسچینج نے کہا کہ لیبر کو جیل کی گنجائش، پولیسنگ، افرادی قوت کے حجم اور عدالتوں میں بیک لاگز کو ختم کرنے کے بحران سے نمٹنے کے لیے سالانہ 5 بلین پاؤنڈ کی اضافی سرمایہ کاری کرنیکی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
اسلام آباد:حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے ترقیاتی قرضوں پر مارک اپ کی حتمی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی۔
وزارت خزانہ نے اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24ء میں مارک اپ کی شرح 17.84 فیصد جبکہ 2024-25 میں 17.74 فیصد رہی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، مالیاتی و غیر مالیاتی اداروں اور دیگر کارپوریشنوں کے ترقیاتی قرضوں پر 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ لاگو ہوگا، وفاقی حکومت کے کمرشل محکموں کے کیپیٹل آؤٹ لیز پر بھی مالی سال 2025-26 کے لیے 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح گاڑی اور گھر کی تعمیر کے لیے قرضوں اور ایڈوانسز پر بھی مالی سال 2025-26 کے دوران 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ وصول کیا جائے گا۔