پولش خاتون کی بیٹی حوالگی کی درخواست، عدالت کا والد اور بیٹی کو ہرصورت پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولش خاتون کی بیٹی کی حوالگی کی درخواست پر بچی کے والد عدیل خان اور بیٹی کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے پولش خاتون اننا مونیکا کی بیٹی انیتا مریم خان کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بچی کے والد عدیل خان اور بیٹی کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران والد عدیل خان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کراچی کے رہائشی ہیں اور یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے دلائل دیے کہ پولینڈ کی عدالت سے ابھی تک بچی کی حوالگی کا کوئی حتمی حکم جاری نہیں ہوا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ وہاں کیس کی کارروائی ابھی جاری ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالت یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا پولینڈ کی عدالت نے کیس کی Cognizance لے رکھی ہے اور آیا بچی کو قانونی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے پاکستان لایا گیا تھا۔
جج نے کہا کہ والد اور بیٹی کو ہر حال میں پیش کیا جائے تاکہ بچی کی صحت اور موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچی کی والدہ نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں انہیں آن لائن عدالت کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے، اگر عدالت مناسب سمجھے تو بچی کی والدہ خود بھی پیش ہوسکتی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ اننا مونیکا بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بچی کی والدہ 15 اپریل کے بعد پاکستان آکر عدالت میں پیش ہوسکتی ہیں۔
بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے اور بیٹی کو اسلام آباد میں پیش بچی کی
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔