اسمارٹ فونز کا استعمال تو لگ بھگ اب سب ہی کرتے ہیں مگر ایک مسئلے کا سامنا اکثر ہوتا ہے اور وہ بیٹری ختم ہونا ہے۔

جی ہاں اسمارٹ فونز کو روزانہ کم از کم ایک بار تو چارج کرنا ہی پڑتا ہے مگر تصور کریں ایسے فون کا جسے چارج کرنے کے لیے چارجر کی ضرورت نہ ہو، بلکہ وہ چلتے پھرتے آپ کے ہاتھوں میں چارج ہو جائے؟ایسا فون واقعی تیار ہوگیا ہے اور ایسا سولر پاور کی بدولت ممکن ہوگا۔بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر ایک چینی کمپنی نے سولر پینل سے لیس اسمارٹ فون کو پیش کیا۔

اس فون کے بیک پر سولر پینل نصب ہے تاکہ اسے سورج کی روشنی سے چلتے پھرتے چارج کیا جاسکے۔کمپنی کے مطابق فی الحال یہ ایک کانسیپٹ ماڈل ہے یعنی عام افراد کو دستیاب نہیں مگر پھر بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔کمپنی نے اسے سولر انرجی ریورسنگ ٹیکنالوجی کا نام دیا ہے اور اس کے لیے perovskite سولر سیلز کو استعمال کیا ہے۔یہ سیل پتلے ہوتے ہیں جبکہ ان کی تیاری پر خرچہ بھی سیلیکون سولر سیلز کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

سولر سیلز کے ساتھ ایک سسٹم میکسیمم پاور پوائنٹ ٹریکنگ دیا گیا ہے جو والٹیج کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ سورج کی روشنی سے فون بہت زیادہ گرم نہ ہو۔فون کے ساتھ سولر پاور پر مبنی کیس بھی تیار کیا گیا تاکہ چارجنگ کا عمل دوگنا تیزی سے مکمل ہوسکے۔

کمپنی کے مطابق کیس کو دن میں کسی بھی وقت سورج کی روشنی سے چارج کیا جاسکتا ہے اور رات کو باہر گھومتے ہوئے بیٹری پاور کم ہونے پر کیس کو فون چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح یہ کیس بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسمارٹ فون ہے اور

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار