پروفیسر ڈاکٹر لبنی ظہیر پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کی چیئرپرسن مقرر
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
پروفیسر ڈاکٹر لبنی ظہیر پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کی چیئرپرسن مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 5 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )وفاقی حکومت نے پروفیسر ڈاکٹر لبنی ظہیر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے تحت کونسل آف کمپلینٹس، پنجاب کا چیئرپرسن مقرر کر دیا۔ڈاکٹر لبنی ظہیر، ایک ممتاز میڈیا ماہر، سیاسی تجزیہ کار، اور سینئر ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت، میڈیا گورننس، اور ریگولیٹری امور میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
ان کی تقرری میڈیا کے اصول و ضوابط اور ضابطہ اخلاق کے تحت نشریات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلم اور نشریات کے سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر ظہیر لبنی نے میڈیا کی تعلیم اور پالیسی کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے میڈیا کی اخلاقیات، گورننس اور آزادی اظہار میں اپنی مہارت کو کامل بناتے ہوئے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ جس میں میڈیا ریگولیشن اور پریس کی آزادی پر عالمی مباحثوں میں شرکت بھی شامل ہے۔ پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس پنجاب کی چیئرپرسن جیسے اہم ریگولیٹری عہدے کے لیے ان کی تعیناتی سے عوامی شکایات کو دور کرنے، ذمہ دارانہ صحافت کو یقینی بنانے اور پنجاب میں میڈیا کے متوازن اور منصفانہ منظر نامے کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کونسل آف کمپلینٹس ڈاکٹر لبنی ظہیر
پڑھیں:
ادویات کی نگرانی کیلئے کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان معاہدہ
مقامی فارماسیوٹیکل مارکیٹ اور کارٹیلائزیشن کی مشترکہ نگرانی سمیت ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی معلومات اور ڈیٹا شئیرنگ کریں گے۔
مسابقتی کمیشن کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل مارکیٹ کی موثر نگرانی کی جائے گی، پالیسی ریسرچ، ڈیٹا شیئرنگ اور استعداد کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دواؤں کی قیمتوں اور دستیابی پر مؤثر نگرانی کا فریم ورک تشکیل دیں گے۔ فارما پراڈکٹ کی گمراہ کن اشتہارات کا جائزہ اور فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں کارٹلائزیشن کی مشترکہ نگرانی کی جائے گی۔
ممبر سی سی پی سلمان امین نے بتایا کہ مزید برآں آن لائن گمراہ کن مارکیٹنگ روکنے کیلئے تعاون ضروری ہے۔ ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دواسازی کا شعبہ براہِ راست عوامی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے دونوں اداروں کا قریبی تعاون ضروری ہے تاکہ دواوں کی مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلہ یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ نے کہا کہ وفاقی ریگولیٹری ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں لیکن ان کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاماسیوٹیکل سیکٹر میں قیمتوں کو ڈیریگولیٹ کیا جا چکا ہے تاہم فارما کمپنیوں کو مارکیٹ کے اصولوں کی پاسداریی اور سپلائی سے متعلق چیلنجز مشترکہ نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔