نیویارک:

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے چھٹی بار ویٹو کر دیا جب کہ قرارداد کو دیگر 14 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب غزہ میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے معصوم شہری دم توڑ رہے ہیں، اور امداد پر اسرائیلی پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔

یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے تیار کی تھی، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ تمام یرغمالیوں کی باعزت رہائی، اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ڈنمارک کی اقوامِ متحدہ میں سفیر کرسٹینا مارکوس لاسی نے ووٹنگ سے قبل پُراثر انداز میں کہا کہ غزہ میں قحط کا اعلان نہیں ہوا مگر تصدیق ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا اسرائیل نے غزہ شہر میں فوجی کارروائی کو مزید وسعت دے دی ہے، جس سے عام شہریوں کی تکالیف ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں، ہم اس انسانیت سوز بحران پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔

واضح رہے کہ عالمی اداروں نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ غزہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں قحط باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، اور اگر حالات نہ بدلے تو یہ پورے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت