غزہ میں قحط اور عالمی چیخ و پکار کے باوجود امریکہ نے جنگ بندی کی قرار داد چھٹی مرتبہ ویٹو کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
نیویارک:
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے چھٹی بار ویٹو کر دیا جب کہ قرارداد کو دیگر 14 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔
یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب غزہ میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے معصوم شہری دم توڑ رہے ہیں، اور امداد پر اسرائیلی پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے تیار کی تھی، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ تمام یرغمالیوں کی باعزت رہائی، اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ڈنمارک کی اقوامِ متحدہ میں سفیر کرسٹینا مارکوس لاسی نے ووٹنگ سے قبل پُراثر انداز میں کہا کہ غزہ میں قحط کا اعلان نہیں ہوا مگر تصدیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا اسرائیل نے غزہ شہر میں فوجی کارروائی کو مزید وسعت دے دی ہے، جس سے عام شہریوں کی تکالیف ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں، ہم اس انسانیت سوز بحران پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔
واضح رہے کہ عالمی اداروں نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ غزہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں قحط باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، اور اگر حالات نہ بدلے تو یہ پورے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔