بالنیدرا شاہ، جنہیں نیپالی نوجوان اپنا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔
کل سے جاری ان پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ وزیر اعظم کے استعفے کے باوجود مظاہرین اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور مختلف سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے گھروں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
کے پی شرما اولی کے مستعفی ہونے کے بعد اب سب کی نظریں اس سوال پر ہیں کہ نیپال کی اگلی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر کون بیٹھے گا؟ اس حوالے سے بالیندرا شاہ کا نام نمایاں ہے، جنہیں ’جنریشن زیڈ‘ کی نمائندگی کرنے والی شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔
بالیندرا شاہ کون ہیں؟بالیندرا شاہ، جو عام طور پر ’بالن شاہ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کٹھمنڈو کے 15ویں میئر ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر اور شوقیہ گلوکار ہیں۔ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔
میئر کے طور پر اپنے دور میں انہوں نے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں سڑکوں کی صفائی، پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کو محفوظ بنانا، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا اور ٹیکس چوری میں ملوث نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں پہچان کرپشن کے خلاف سخت رویہ اور شفاف ساکھ ہے۔
2023 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے انہیں 100 ابھرتی ہوئی عالمی شخصیات میں شمار کیا، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان کی قیادت کو سراہا۔ نوجوانوں میں ان کی مقبولیت بے حد زیادہ ہے اور انہیں نیپالی سیاست میں نئی امید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بالن شاہ کا جنریشن زیڈ سے متعلق موقفحال ہی میں بالن شاہ نے جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والے کرپشن اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ فیس بک پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مظاہروں میں شریک نہیں ہو سکتے کیونکہ منتظمین نے عمر کی حد 28 سال مقرر کر رکھی ہے، لیکن وہ اس تحریک کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔
البتہ، جب مظاہرے پرتشدد ہوگئے اور وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا تو انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔