کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔

کل سے جاری ان پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ وزیر اعظم کے استعفے کے باوجود مظاہرین اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور مختلف سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے گھروں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

کے پی شرما اولی کے مستعفی ہونے کے بعد اب سب کی نظریں اس سوال پر ہیں کہ نیپال کی اگلی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر کون بیٹھے گا؟ اس حوالے سے بالیندرا شاہ کا نام نمایاں ہے، جنہیں ’جنریشن زیڈ‘ کی نمائندگی کرنے والی شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔

بالیندرا شاہ کون ہیں؟

بالیندرا شاہ، جو عام طور پر ’بالن شاہ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کٹھمنڈو کے 15ویں میئر ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر اور شوقیہ گلوکار ہیں۔ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔

میئر کے طور پر اپنے دور میں انہوں نے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں سڑکوں کی صفائی، پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کو محفوظ بنانا، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا اور ٹیکس چوری میں ملوث نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں پہچان کرپشن کے خلاف سخت رویہ اور شفاف ساکھ ہے۔

2023 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے انہیں 100 ابھرتی ہوئی عالمی شخصیات میں شمار کیا، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان کی قیادت کو سراہا۔ نوجوانوں میں ان کی مقبولیت بے حد زیادہ ہے اور انہیں نیپالی سیاست میں نئی امید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بالن شاہ کا جنریشن زیڈ سے متعلق موقف

حال ہی میں بالن شاہ نے جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والے کرپشن اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ فیس بک پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مظاہروں میں شریک نہیں ہو سکتے کیونکہ منتظمین نے عمر کی حد 28 سال مقرر کر رکھی ہے، لیکن وہ اس تحریک کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔

البتہ، جب مظاہرے پرتشدد ہوگئے اور وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا تو انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی