لندن: برطانیہ میں زیر تعلیم چینی طالب علم ژینہاؤ زو کو متعدد خواتین کو نشہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کے خطرناک ترین جنسی مجرموں میں شامل ہو سکتا ہے، جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ اس کے شکار ہونے والی خواتین کی تعداد 50 سے زائد ہو سکتی ہے۔

28 سالہ زو 2017 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ آیا تھا۔ وہ پہلے کوئینز یونیورسٹی بیلفاسٹ میں زیر تعلیم تھا اور بعد میں یونیورسٹی کالج لندن (UCL) سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ وہ امیر خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور مہنگی رہائش، برانڈڈ کپڑوں اور کاسمیٹک سرجری پر لاکھوں خرچ کرتا تھا۔

زو نے خفیہ کیمرے لگا کر خواتین کی ویڈیوز بنائیں اور نشہ آور کیمیکل استعمال کرکے انہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، وہ 2019 سے 2024 تک برطانیہ اور چین میں خواتین پر حملے کرتا رہا۔

پولیس کو زو کے گھر سے متاثرہ خواتین کے کپڑے اور زیورات ملے، جنہیں وہ یادگار کے طور پر جمع کرتا تھا۔ تفتیش میں 9 مختلف ریپ کی ویڈیوز سامنے آئیں، جنہیں اس نے خود ریکارڈ کیا تھا۔

عدالت میں جب ان ویڈیوز کو پیش کیا گیا تو ججز اور جیوری کے افراد جذباتی ہو گئے۔ جج روزینا کاٹیج نے زو کو "خطرناک اور شکاری مجرم" قرار دیا اور کہا کہ اسے سخت سزا دی جائے گی۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق، میڈیا کوریج کے بعد ایک خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا ہے اور مزید متاثرین سے سامنے آنے کی اپیل کی گئی ہے، خاص طور پر لندن میں چینی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے۔

زو کو 11 بار ریپ، 3 بار ویوئرزم (خفیہ ویڈیوز بنانے)، 10 بار انتہائی فحش مواد رکھنے اور 3 بار جنسی جرم کے ارادے سے نشہ آور اشیا رکھنے کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

اس نے اپنی صفائی میں کہا کہ یہ تمام حرکات "رضامندی پر مبنی کردار ادا کرنے" کا حصہ تھیں، لیکن عدالت نے اس کا دفاع مسترد کر دیا۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس جرم پر "شدید صدمے" میں ہیں، جبکہ پراسیکیوشن نے زو کو "سلسلہ وار ریپسٹ اور خواتین کے لیے خطرہ" قرار دیا ہے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود