ایم اے بی اے ٹرمپ کا “ٹیرف میجک ” امریکہ کو دوبارہ دیوالیہ کر سکتا ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 March, 2025 سب نیوز

واشنگٹن :امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھاکہ وہ 2 اپریل کے قریب درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ یہ تاریخ ٹرمپ کے “توہمات” کی وجہ سے طے کی گئی ہے، جو اصل میں 1 اپریل کو اپریل فول کے دن ٹیرف پالیسی نافذ کرنا چاہتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اسے بدل کر 2 اپریل کر دیا، کیونکہ 1 اپریل کو منحوس دن سمجھا جاتا ہے۔درحقیقت، میں ٹرمپ کے فیصلے کو مکمل طور پر سمجھتا ہوں اور اس کی تائید کرتا ہوں، کیونکہ ان کے بظاہر پراسرار انداز کو دیکھتے ہوئے، اگر وہ اپریل فول کے دن ٹیرف کا اعلان کرتے تو پوری دنیا الجھن کا شکار ہو جاتی، کہ ” آیا یہ سچ ہے یا جھوٹ؟”۔ خود کو “ٹیرف کا گاڈفادر” کہلوانے والے ٹرمپ نے قومی معاشی حکمت عملی میں پیش گوئی کرنے والے ٹیروٹ کارڈز (TAROT) کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

وہ “ٹیرف سب سے خوبصورت لفظ ہے” کے منتر پڑھتے ہوئے پالیسی کیلنڈر پر “مبارک دن” تلاش کرتے ہیں، جس سے بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ ایک بورنگ کلشے کی بجائے ہر روز نئے تجربات کا سامنا کرتا ہے اور گلی کوچوں میں گفتگو کے موضوعات زندگی کو زیادہ رنگین بنا دیتے ہیں۔اگر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی میں کوئی مستقل منطق ہے، تو وہ یہ ہے کہ “توہمات کو ترجیح دی جائے، اور عقلیت کو پس پشت ڈال دیا جائے”۔ 2018 میں چین پر ٹیرف لاگو کرنے کے بعد سے، ان کی ٹیم ایک عجیب عقیدے میں مبتلا ہو گئی ہے جس کے مطابق اگر ٹیرف کی شرح کو کافی زیادہ کر دیا جائے، تو امریکہ کا تجارتی خسارہ جادوئی طور پر غائب ہو جائے گا اور چین، ہاوس آف کارڈز کی طرح گر جائے گا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین نہ صرف گرنے کے بجائے مزید مضبوط ہوا ہے، بلکہ چین کی طرف سے جوابی کارروائیاں بھی ہر بار زیادہ مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، چین کی حالیہ دو جوابی کارروائیوں نے امریکہ کے تیل، گیس، اور پک اپ جیسی “بے ضرر” مصنوعات سے آگے بڑھ کر امریکی زراعت کے کمزور حصوں کو ہدف بنایا ہے، جس میں مکئی، سویابین، اور گندم جیسی اہم فصلیں شامل ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کو “درد اور تکلیف ” کا احساس ہو رہا ہوگا، اور وہ “ہنسنے اور رونے” کے درمیان والی کیفیت میں پھنس گئے ہوں گے۔امریکی کسان پوچھ سکتے ہیں: “ہمیں کیوں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے؟ ہماری مکئی اور سویابین ٹرمپ کے ‘ٹیرف میجک ‘ کی بھینٹ کیوں چڑھ رہی ہیں؟” جواب بہت آسان ہے: چین کے سامنے ، جو زرعی مصنوعات میں دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے، امریکی زراعت ٹرمپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بھی زیادہ کمزور ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم اب تک چین-امریکہ تجارت کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کو سویابین کی ضرورت ہے، لیکن امریکہ کو سویابین بیچنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جب چین میں امریکی سویابین کی درآمد کی شرح 40 فیصد سے گر کر 22.

8 فیصد ہو گئی، تو برازیل کے کسان، جنہیں چین سے بڑے آرڈر ملے، شاید وائٹ ہاؤس کو شکریہ کا خط بھیجیں گے۔ “دشمن کو 800 کا نقصان پہنچاؤ اور خود 1000 کا نقصان اٹھاؤ” والی یہ حکمت عملی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ٹرمپ کے تجارتی مشیروں نے کوئی کریش کورس کیا ہے کہ “اپنے ملک کی اہم صنعتوں کو کیسے تباہ کیا جائے” ؟

تاریخ سے ثابت ہے کہ ٹیرف کی جنگ کے دیوانے ہمیشہ رسوا ہوئے ہیں ۔ 1929 میں امریکہ کے سابق صدر ہربرٹ کلارک ہوور کے ٹیرف کے کرتب نے امریکی تجارت کو دو تہائی تک سکیڑ دیا تھا ۔ ییل یونیورسٹی کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق، ٹرمپ کا ٹیرف کا توہم ،امریکی جی ڈی پی کو ہر سال 110 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا سکتا ہے – یہ رقم ہر ایک امریکی کسان کو(Make America Bankrupt Again ) MABA یعنی “امریکہ کو دوبارہ دیوالیہ کرو” والی سرخ ٹوپی پہنانے کے لیے کافی ہے۔ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیرف ، پتھر کو سونا بنانے والی چھڑی ہے، لیکن حقیقی دنیا میں یہ” ہیری پوٹر” میں ہیری کے دوست “رون “کی خراب چھڑی کی طرح ہے جو صرف افراتفری پیدا کرتی ہے اور کچھ نہیں۔اس وقت جب چین ڈبلیو ٹی او کے قواعد اور متنوع درآمدی و برآمدی حکمت عملی کے ساتھ پُرسکون طریقے سے جواب دے رہا ہے، تو وائٹ ہاؤس کے “ٹیرف آفس” میں پریشان کسانوں کی دہائیاں ، بڑھتی ہوئی قیمتوں کی چیخیں اور مسلسل تبدیل ہونے والا “مبارک دن” ہی نظر آ رہا ہے ۔ چین تو پہلے ہی تجارتی جنگ کے دھوئیں میں تائی چی کنگ فو ) حملہ کرنے والی کی طاقت کو اسی کے خلاف استعمال( کی مہارت رکھتا ہے – اس لئے اس بار بھی یہ طے ہے کہ توہم پرست “ٹیرف گیمبلرز ” کے خلاف بہترین جواب ،ایک پرسکون اور فیصلہ ضرب ہوگی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: امریکہ کو

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ