اتر پردیش: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک پولیس کانسٹیبل نے اپنی تاخیر کی وجہ اپنی بیوی کے خوفناک خوابوں کو قرار دے کر سب کو حیران کر دیا۔

یہ انوکھا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پروونشل آرمڈ کانسٹیبلری (PAC) کے اہلکار کو مسلسل تاخیر پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ اس کے جواب میں کانسٹیبل نے دعویٰ کیا کہ وہ شدید بے خوابی (Insomnia) کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی ازدواجی زندگی میں جاری تنازعات ہیں۔

بھارتی نیوز ایجنسی PTI کی رپورٹ کے مطابق، کانسٹیبل نے اپنے تحریری جواب میں لکھا: "میری بیوی مجھے ڈراؤنے خواب دیتی ہے، جس کی وجہ سے میں رات بھر جاگتا رہتا ہوں اور ڈیوٹی پر تاخیر سے پہنچتا ہوں۔ وہ میرے سینے پر بیٹھتی ہے اور میرا خون پینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ مجھے مار سکے۔"

یہ حیران کن جواب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام نے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔

PAC کے 44ویں بٹالین کے کمانڈنٹ، سچندرا پٹیل نے تصدیق کی کہ معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اہلکار کی ذہنی صحت اس کے فرائض پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔

کانسٹیبل کو 17 فروری کو بٹالین انچارج دالنائک مدھوسودن شرما کی جانب سے نوٹس دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ 16 فروری کو صبح کی بریفنگ میں دیر سے پہنچا، یونیفارم مکمل نہیں تھا، اور اکثر یونٹ کی سرگرمیوں سے غیر حاضر رہتا تھا۔

اپنے جواب میں اہلکار نے کہا کہ وہ ڈپریشن اور چڑچڑے پن کا علاج کروا رہا ہے اور اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے مزید پریشان ہے۔

جواب کے آخر میں اس نے جذباتی انداز میں لکھا:"مجھے جینے کی کوئی خواہش نہیں رہی، میں خود کو خدا کے حوالے کرنا چاہتا ہوں، براہ کرم میری رہنمائی کریں۔"

یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب یہ نوٹس سوشل میڈیا پر لیک ہو گیا۔ پولیس حکام نے یہ جاننے کے لیے الگ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے کہ یہ خط کیسے منظر عام پر آیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ