— فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے ڈیزل بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنے کی پالیسی بنانے کا حکم دے دیا۔

عدالت میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے معاملے پر سماعت ہوئی۔

جسٹس شاہد کریم نے سماعت کے دوران کہا کہ ڈیزل بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنے کے لیے فیز آؤٹ پالیسی بنانی چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ الیکٹرک بسوں کی طرف جانا بہت ضروری ہے چاہے اس میں دو یا تین سال کاعرصہ لگ جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے استعفیٰ دیدیا

راولپنڈیلاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری.

..

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ محکمۂ ٹرانسپورٹ کو رکشوں سے متعلق بھی پالیسی بنانی چاہیے، رکشوں کو بھی الیکٹرک رکشوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، بھارت اور دیگر ممالک میں ایسا کامیابی سے کیا جا چکا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ رکشہ مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر پلان بنانا چاہیے کہ دھویں کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ صبح میں اسکول جاتے ہوئے اور چھٹی کے ٹائم ایک مربوط ٹریفک پلان بنانا بھی ضروری ہے۔

عدالت نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بڑے اسکولوں کے لیے پارکنگ ایریا لازمی ہونا چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ لوگوں کو حکومت کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا اور اپنے گھر کے آگے صفائی اور خوبصورتی کا خیال رکھنا ہو گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میں تبدیل نے کہا کہ

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی