چین نے پاکستان کے ذمے 2 ارب ڈالر قرض کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
چین کی جانب سے پاکستان کے ذمے واجب الادا 2 ارب ڈالر کی رقم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں چین، سعودی عرب اور یو اے ای کی پاکستان کو 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی
وزارت خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ چین نے واجب الادا 2 ارب ڈالر کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔
واضح رہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے 2 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کی مدت 24 مارچ 2025 کو مکمل ہورہی تھی۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل یو اے ای نے بھی 2 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی مزید ایک سال کے رول اوور کردی تھی۔
حکومت پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے کوشاں ہے، اور برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط کا حصول، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری
دوسری جانب آئی ایم ایف سے دوسری قسط کے حصول کے لیے بھی پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات جاری ہیں، جن کی کامیابی کے پاکستان کو 1.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف پاک چین دوستی پاکستان چین قرض رول اوور واجب الادا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پاک چین دوستی پاکستان چین قرض رول اوور واجب الادا وی نیوز ارب ڈالر کی ایک سال کی مدت
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔