ایف آئی اے کا بحریہ ٹاؤن کے ڈیلروں کے خلاف کریک ڈاؤن، شاہد عرف قادری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے اہم ڈیلر شاہد عرف قادری کو حوالہ اور ہنڈی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ شاہد عرف قادری، علی ثقلین رئیل اسٹیٹ اینڈ بلڈرز کے سی ای او ہیں، جن کے قبضے سے غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔
ذرائع کے مطابق، ایف آئی اے نے شاہد عرف قادری کو بحریہ ٹاؤن کراچی میں چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور عدالت سے ان کا ریمانڈ حاصل کر لیا۔ اس سے قبل بھی ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن کے دو ڈیلرز کو گرفتار کر کے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے تین مقدمات درج کیے تھے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے کم از کم دو درجن اہم ڈیلر منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، جس کے بعد ایف آئی اے نے چوبیس ڈیلروں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو دبئی میں سرمایہ کاری کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شاہد عرف قادری بحریہ ٹاؤن ایف آئی اے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔