کراچی:

چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تقریب تقسیم انعامات میں ٹورنامنٹ کے میزبان پاکستان کو مکمل نظر انداز کرنے پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی سوال اٹھادیا۔

ذرائع کے مطابق تقریب میں میزبان ملک کی نمائندگی روایت رہی ہے لیکن آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کسی بھی عہدیدار کو مدعو نہیں کیا جس نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پی سی بی چیئرمین محسن نقوی صحت کی وجوہات کی بنا پر دبئی نہیں جاسکے تاہم پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سمیر احمد سید فائنل میچ کے موقع پر دبئی اسٹیڈیم میں ہی موجود تھے لیکن اس کے باوجود آئی سی سی نے انہیں تقریب میں شامل نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق تقریب میں کون اسٹیج پر موجود ہوگا اس کا مکمل اختیار آئی سی سی کے پاس تھا، لیکن اس کے باوجود سمیر احمد سید کو اسٹیج پر نہیں بلایا گیا جبکہ تقریب میں بی سی سی آئی کے صدر راجر بنی، سیکریٹری دیوجیت سائقیا، نیوزی لینڈ کے سابق کھلاڑی راجر ٹووز اور آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ مدعو تھے۔

اس صورتحال کو کرکٹ حلقے پاکستان کے ساتھ جان بوجھ کر کیا گیا ناروا سلوک قرار دے رہے ہیں جبکہ پی سی بی بھی اس صورتحال سے ناخوش ہے، فی الحال آئی سی سی کی جانب سے اس پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

شائقین کرکٹ نے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ سابق آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کو ٹرافی اسٹیج پر لانے کی ذمہ داری دی گئی جبکہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فاتح پاکستانی کپتان سرفراز احمد کو نظر انداز کیا گیا جس سے پاکستانی مداح مزید نالاں دکھائی دے رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ میں خدمات کو نظر انداز کرنے کی سوچی سمجھی کوشش لگتا ہے خاص طور پر جب پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کی شاندار میزبانی کرکے اسکا کامیاب انعقاد ممکن بنایا ہے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تقریبِ تقسیم انعامات میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔

شعیب اختر نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارت نے آج چیمپئنز ٹرافی جیت لی لیکن میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ کا میزبان تھا لیکن تقریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

شعیب اختر نے کہا کہ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہ ایک عالمی اسٹیج تھا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں وہاں پی سی بی کا کوئی رکن نہیں دیکھ سکا، یہ دیکھ کر دل بہت اداس ہوا، یہ واقعی میری سمجھ سے باہر ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟۔

واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی 2025 پاکستان کے لیے 29 سال بعد پہلا بڑا ایونٹ تھا، لیکن میزبان ٹیم کو گروپ مرحلے میں ہی نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہونا پڑا جس پر پاکستانی شائقین پہلے ہی مایوس تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی پی سی بی

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل